عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَيْنَ أَنْتَ ؟ " . قَالَ : بَرْبَرِيٌّ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ عَنِّي " . قَالَ : بِمِرْفَقِهِ هَكَذَا ، فَلَمَّا قَامَ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ الْإِيمَانَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . وَصَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آ کر بیٹھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں بر بری ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم اُٹھ جاؤ ! راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کہنی کے ذریعے اس طرح اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، جب وہ شخص آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ایمان ان لوگوں کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، ایک راوی صالح مولی تو امہ ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، ایک راوی صالح مولی تو امہ ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَخْرَجَ صَدَقَةً فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا بَرْبَرِيًّا فَلْيَرُدَّهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص صدقہ کرنے کے لئے کوئی چیز نکالے اور پھر اسے ( صدقہ لینے والے کے طور پر ) صرف کوئی بر بری ملے ، تو وہ اس صدقے ( کی چیز ) کو واپس لے جائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مَوْلًى لِرَفِيعِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اشْتَرَى جَارِيَةً بَرْبَرِيَّةً بِمِائَتَيْ دِينَارٍ ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي مُحَمَّدٍ الْبَدْرِيِّ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؛ وَكَانَ بَدْرِيًّا فَوَهَبَ لَهُ الْجَارِيَةَ الْبَرْبَرِيَّةَ ، فَلَمَّا جَاءَتْهُ قَالَ : هَذِهِ مِنَ الْمَجُوسِ الَّذِينَ نَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُمْ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا . ¤ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجُلًا فَحَدَّثَنِي : أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ : أَنَّ عَمًّا لَهُ مَاتَ بِالْمَغْرِبِ ، وَكَانَ بَدْرِيًّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ وَابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
رفیع بن ثابت کے غلام بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے دو سو دینار کے عوض میں ایک بربری کنیز خریدی اور اسے سیدنا ابومحمد رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل تھا ، انہوں نے ان صاحب کو وہ ہر بری کنیز ہبہ کے طور پر دی تھی ، جب وہ کنیز ان کے پاس آئی تو انہوں نے فرمایا : یہ ان مجوسیوں میں سے ایک ہے ، جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اور مشرکین ( کے بارے میں بھی منع کیا ہے ) ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے
یہ روایت ایک شخص کو بیان کی ، تو اس نے مجھے یہ بتایا کہ یحیی بن سعید نے اسے یہ بات بتائی ہے کہ ان کے ایک چچا کا انتقال مغرب ( یعنی مراکش ) میں ہوا تھا اور وہ ” بدری “ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
یہ روایت ایک شخص کو بیان کی ، تو اس نے مجھے یہ بتایا کہ یحیی بن سعید نے اسے یہ بات بتائی ہے کہ ان کے ایک چچا کا انتقال مغرب ( یعنی مراکش ) میں ہوا تھا اور وہ ” بدری “ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْخُبْثُ سَبْعُونَ جُزْءًا فَجُزْءٌ فِي الْجِنِّ وَالْأِنْسِ وَتِسْعَةٌ وَسِتُّونَ فِي الْبَرْبَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” خباثت کے ستر اجزاء ہیں ، جن میں سے ایک جزء ، جنوں اور انسانوں میں پایا جاتا ہے ، اور انہتر اجزاء ، بر بریوں میں پائے جاتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : " قَسَّمَ اللَّهُ الْخُبْثَ عَلَى سَبْعِينَ جُزْءًا فَجَعَلَ فِي الْبَرْبَرِ تِسْعَةً وَسِتِّينَ جُزْءًا وَلِلنَّاسِ جُزْءًا وَاحِدًا " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْأَوَّلِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِيهِ أَيْضًا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ ؛ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا سِوَى حَدِيثِ : " إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ " . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے خباثت کو ستر اجزاء میں تقسیم کیا ، تو بربر میں انہتر حصے رکھے اور باقی تمام لوگوں میں ایک حصہ رکھا “ ۔ پہلی روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی مطلب بن شعیب ہے ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ، صرف یہ حدیث ہے : ” جب کسی قوم کا معزز فرد تمہارے پاس آئے ، تو تم اس کی عزت افزائی کرو “ ۔
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخُبْثُ سَبْعُونَ جُزْءًا لِلْبَرْبَرِ تِسْعَةٌ وَسِتُّونَ جُزْءًا وَلِلْجِنِّ وَالْأِنْسِ جُزْءٌ وَاحِدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خباثت کے ستر اجزاء ہیں ، بربر کے لئے انہتر اجزاء ہیں ، اور ( تمام ) جنوں اور انسانوں کے لئے ایک جزء ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالرحمن بن عبدالحکم ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالرحمن بن عبدالحکم ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرُوا الرَّقِيقَ وَشَارِكُوهُمْ فِي أَرْزَاقِهِمْ وَإِيَّاكُمْ وَالزِّنْجِ ، فَإِنَّهُمْ قَصِيرَةٌ أَعْمَارُهُمْ قَلِيلَةٌ أَرْزَاقُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” غلام خریدو ! اور ان کے رزق میں انہیں شراکت دار بناؤ ، اور زنگیوں سے بچو ! کیونکہ اُن کی عمریں تھوڑی ہوتی ہیں اور ان کا رزق کم ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ذُكِرَ السُّودَانُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " دَعُونِي مِنَ السُّودَانِ ، فَإِنَّ الْأَسْوَدَ لِبَطْنِهِ وَفَرْجِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغلَابيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُعْتَبَرُ بِحَدِيثِهِ إِذَا رَوَى عَنْ ثِقَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیاہ فام افراد کا ذکر کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : سیاہ فام لوگوں کے حوالے سے مجھے رہنے دو ! کیونکہ سیاہ فام شخص صرف اپنے پیٹ اور اپنی شرمگاہ کا ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن زکریا غلابی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : جب یہ کسی ثقہ راوی سے روایت کرے ، تو اس کی روایت کا اعتبار کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن زکریا غلابی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : جب یہ کسی ثقہ راوی سے روایت کرے ، تو اس کی روایت کا اعتبار کیا جائے گا ۔
وَعَنْ أُمِّ أَيْمَنَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّمَا الْأَسْوَدُ لِفَرْجِهِ وَبَطْنِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ آلِ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” سیاہ فام شخص ، اپنی شرمگاہ ، یا اپنے پیٹ کا ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن محمد ہے ، جس کا تعلق آل زبیر سے ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن محمد ہے ، جس کا تعلق آل زبیر سے ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَمْنَعُ حَبَشَ بَنِي الْمُغِيرَةِ أَنْ يَأْتُوكَ إِلَّا أَنَّهُمْ يَخْشَوْنَ أَنْ تَرُدَّهُمْ . قَالَ : " لَا خَيْرَ فِي الْحَبَشِ . إِذَا جَاعُوا سَرَقُوا ، وَإِنْ شَبِعُوا زَنَوْا ، وَإِنَّ فِيهِمْ لِخَلَّتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ : إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَبَأْسٌ عِنْدَ الْبَأْسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ وَلَفْظُهُ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا خَيْرَ فِي الْحَبَشِ . إِنْ شَبِعُوا زَنَوْا ، وَإِنَّ فِيهِمْ لِخَلَّتَيْنِ : إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَبَأْسٌ عِنْدَ الْبَأْسِ " . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ وَعَوْسَجَةُ الْمَكِّيُّ فِيهِ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ، وَوَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! بنو مغیرہ کے حبشیوں کے لئے کیا رکاوٹ ہے ؟ کہ وہ آپ کے پاس آئیں ، صرف یہ وجہ ہے کہ آپ انہیں واپس کر دیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حبشیوں میں بھلائی نہیں ہے ، جب وہ بھوکے ہوں ، تو چوری کر لیتے ہیں اور جب سیر ہوں تو زنا کرتے ہیں ، ان کے اندر دو اچھی چیزیں ہیں کھانا کھلانا اور لڑائی کے وقت بہادری ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حبشیوں میں بھلائی نہیں ہے ، اگر وہ سیر ہوں ، تو زنا کرتے ہیں ، لیکن ان میں دو خوبیاں ہیں ، کھانا کھلانا اور لڑائی کے وقت مضبوطی “ ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ، عوسجہ مکی نامی راوی کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حبشیوں میں بھلائی نہیں ہے ، اگر وہ سیر ہوں ، تو زنا کرتے ہیں ، لیکن ان میں دو خوبیاں ہیں ، کھانا کھلانا اور لڑائی کے وقت مضبوطی “ ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ، عوسجہ مکی نامی راوی کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْأَسْوَدَ إِذَا جَاعَ سَرَقَ ، وَإِذَا شَبِعَ زَنَى ، وَإِنَّ فِيهِمْ لِخَلَّتَيْنِ : صِدْقُ السَّمَاحَةِ وَالنَّجْدَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَعَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ ؛ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِذَاكَ ، تَفَرَّدَ بِأَشْيَاءَ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سیاہ فام شخص جب بھوکا ہو گا ، تو چوری کرے گا اور جب سیر ہو گا ، تو زنا کرے گا ، ان میں دو خوبیاں پائی جاتی ہیں ، سچی نرمی اور مضبوطی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے اور ایک راوی علی بن سعید رازی ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے ، یہ کچھ روایات نقل کرنے میں منفرد ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے اور ایک راوی علی بن سعید رازی ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے ، یہ کچھ روایات نقل کرنے میں منفرد ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔