حدیث نمبر: 7202
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : " قَسَّمَ اللَّهُ الْخُبْثَ عَلَى سَبْعِينَ جُزْءًا فَجَعَلَ فِي الْبَرْبَرِ تِسْعَةً وَسِتِّينَ جُزْءًا وَلِلنَّاسِ جُزْءًا وَاحِدًا " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْأَوَّلِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِيهِ أَيْضًا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ ؛ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا سِوَى حَدِيثِ : " إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ " . ¤
محمد محی الدین

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے خباثت کو ستر اجزاء میں تقسیم کیا ، تو بربر میں انہتر حصے رکھے اور باقی تمام لوگوں میں ایک حصہ رکھا “ ۔ پہلی روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی مطلب بن شعیب ہے ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ، صرف یہ حدیث ہے : ” جب کسی قوم کا معزز فرد تمہارے پاس آئے ، تو تم اس کی عزت افزائی کرو “ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7202
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف