مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ حَبْسِ الرَّقِيقِ باب: حبشی غلام رکھنے کا مکروہ ہونا
وَعَنْ مَوْلًى لِرَفِيعِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اشْتَرَى جَارِيَةً بَرْبَرِيَّةً بِمِائَتَيْ دِينَارٍ ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي مُحَمَّدٍ الْبَدْرِيِّ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؛ وَكَانَ بَدْرِيًّا فَوَهَبَ لَهُ الْجَارِيَةَ الْبَرْبَرِيَّةَ ، فَلَمَّا جَاءَتْهُ قَالَ : هَذِهِ مِنَ الْمَجُوسِ الَّذِينَ نَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُمْ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا . ¤ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجُلًا فَحَدَّثَنِي : أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ : أَنَّ عَمًّا لَهُ مَاتَ بِالْمَغْرِبِ ، وَكَانَ بَدْرِيًّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ وَابْنُ لَهِيعَةَ . ¤رفیع بن ثابت کے غلام بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے دو سو دینار کے عوض میں ایک بربری کنیز خریدی اور اسے سیدنا ابومحمد رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل تھا ، انہوں نے ان صاحب کو وہ ہر بری کنیز ہبہ کے طور پر دی تھی ، جب وہ کنیز ان کے پاس آئی تو انہوں نے فرمایا : یہ ان مجوسیوں میں سے ایک ہے ، جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اور مشرکین ( کے بارے میں بھی منع کیا ہے ) ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے
یہ روایت ایک شخص کو بیان کی ، تو اس نے مجھے یہ بتایا کہ یحیی بن سعید نے اسے یہ بات بتائی ہے کہ ان کے ایک چچا کا انتقال مغرب ( یعنی مراکش ) میں ہوا تھا اور وہ ” بدری “ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔