مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ حَبْسِ الرَّقِيقِ باب: حبشی غلام رکھنے کا مکروہ ہونا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَيْنَ أَنْتَ ؟ " . قَالَ : بَرْبَرِيٌّ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ عَنِّي " . قَالَ : بِمِرْفَقِهِ هَكَذَا ، فَلَمَّا قَامَ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ الْإِيمَانَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . وَصَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آ کر بیٹھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں بر بری ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم اُٹھ جاؤ ! راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کہنی کے ذریعے اس طرح اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، جب وہ شخص آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ایمان ان لوگوں کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، ایک راوی صالح مولی تو امہ ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔