کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص عطیہ کے طور پر کوئی چیز دے اور پھر اس کا وارث بن جائے
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْطَى أُمَّهُ حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ حَيَاتَهَا ، فَمَاتَتْ فَجَاءَ إِخْوَتُهُ فَقَالُوا : نَحْنُ فِيهَا شَرَعٌ سَوَاءٌ . فَأَبَى فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَسَّمَهُ بَيْنَهُمْ مِيرَاثًا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ، اپنی والدہ کو ان کی زندگی میں کھجور کا ایک باغ عطیہ کے طور پر دیا ، اس خاتون کا انتقال ہو گیا ، اُس کے بھائی آئے اور انہوں نے کہا: ہم اس میں برابر کے حصہ دار ہوں گے اس شخص نے انکار کیا ، اُن لوگوں نے اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ ان لوگوں کے درمیان وراثت کے طور پر تقسیم کر دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7192
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً فِي حَيَاتِهَا ، وَإِنَّهَا تُوُفِّيَتْ ، وَلَمْ تَدَعْ وَارِثًا غَيْرِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - أَحْسَبُهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَدَّ عَلَيْكَ حَدِيقَتَكَ وَقَبِلَ صَدَقَتَكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ میں نے اپنی والدہ کو ان کی زندگی میں ایک باغ عطیہ کے طور پر دیا ، اُن کا انتقال ہو گیا ، انہوں نے میرے علاوہ کوئی اور وارث نہیں چھوڑا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارا باغ تمہیں واپس کر دیا ہے اور تمہارا صدقہ قبول کر لیا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7193
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ سِنَانِ بْنِ مَسْلَمَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ تَصَدَّقَ بِأَرْضٍ ( لَهُ ) عَظِيمَةٍ عَلَى أُمِّهِ فَمَاتَتْ وَلَيْسَ لَهَا وَارِثٌ غَيْرُهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ أُمِّي فُلَانَةً كَانَتْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَأَعَزِّهِ عَلَيَّ ، وَإِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَيْهَا بِأَرْضٍ ( لِي ) عَظِيمَةٍ فَمَاتَتْ وَلَيْسَ لَهَا وَارِثٌ غَيْرِي ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ بِهَا ؟ فَقَالَ : " أَوْجَبَ اللَّهُ أَجْرَكَ وَرَدَّ عَلَيْكَ أَرْضَكَ ، اصْنَعْ مَا شِئْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سنان بن مسلمہ بیان کرتے ہیں : مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنی ایک بڑی زمین ، اپنی والدہ کو صدقے کے طور پر دے دی ، اس خاتون کا انتقال ہو گیا ، اس خاتون کا وارث اس شخص کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے عرض کی : میری والدہ جو فلاں خاتون ہیں ، وہ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ معزز تھیں ، میں نے انہیں بڑی زمین صدقہ کے طور پر دی تھی ، اُن کا انتقال ہو گیا ہے ، ان کا وارث میرے علاوہ کوئی اور نہیں ہے ، تو اب آپ مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں ؟ میں اس زمین کے بارے میں کیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارے اجر کو واجب کر دیا ، اور تمہاری زمین تمہیں واپس کر دی ، اب تم جو چاہو کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7194
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6493)»
وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ شَيْءٍ لِي فَهُوَ صَدَقَةٌ إِلَّا فَرَسِي . وَكَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَقَبَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَهَا فِي الْأَوْفَاضِ، فَجَاءَ أَبَوَاهُ ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطْعِمْنَا مِنْ صَدَقَةِ ابْنِنَا مَا لَنَا شَيْءٌ ، وَإِنَّا لَنَطُوفُ مَعَ الْأَوْفَاضِ . فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَجَّعَهَا إِلَيْهِمَا ، فَمَاتَا فَوَرِثَهَا ابْنُهُمَا الَّذِي كَانَ تَصَدَّقَ بِهَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَدَقَتِي الَّتِي كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِهَا فَدَفَعْتَهَا إِلَى وَالِدَيَّ فَمَاتَا فَوَرِثْتُهُمَا أَفَحَلَالٌ هِيَ لِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ فَكُلْهَا هَنِيئًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری ہر چیز صدقہ ہے ، البتہ میرے اس گھوڑے کا معاملہ مختلف ہے ، اس شخص کی زمین تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ زمین قبضے میں لی اور محتاج لوگوں میں اسے تقسیم کرنا شروع کی ، اُس کے ماں باپ آئے اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے بیٹے کے صدقہ کیے ہوئے ، میں سے ہمیں بھی کھانے کے لئے دیں ، ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، ہم بھی غریب لوگوں کے ساتھ چکر لگاتے پھرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ زمین لی اور وہ ان دونوں کو واپس کر دی ، جب ان دونوں کا انتقال ہوا ، تو ان دونوں کا بیٹا اس کا وارث بنا ، جس نے وہ زمین صدقہ کے طور پر دی تھی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا وہ صدقہ ، جو میں نے صدقہ کیا تھا ، اور آپ نے وہ میرے والدین کے حوالے کر دیا تھا ، اب ان دونوں کا انتقال ہو گیا ہے ، اور اب میں ان کا وارث بنا ہوں ، تو کیا وہ زمین میرے لئے حلال ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم خوش ہو کر اسے کھاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اسحاق بن یحییٰ نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7195
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
وَعَنْ بِشْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الَّذِي أَدَّى النِّدَاءَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : تَصَدَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ بِمَالٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ ، وَكَانَ يَعِيشُ فِيهِ هُوَ وَوَلَدُهُ فَدَفَعَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ أَبُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ تَصَدَّقَ بِمَالِهِ ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَعِيشُ فِيهِ . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبِلَ صَدَقَتَكَ فَرَدَّهَا مِيرَاثًا عَلَى أَبَوَيْكَ " . ¤ قَالَ بَشِيرٌ : فَتَوَارَثْنَاهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَبَشِيرٌ هَذَا لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
بشیر بن محمد بن عبداللہ بن زید ، جنہوں نے اذان سے متعلق روایت ، اپنے والد کے حوالے سے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ایک مال صدقہ کیا ، اُن کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا ، وہ اور ان کی اولاد اُسی کے حوالے سے گزر بسر کرتے تھے ، انہوں نے وہ مال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیا ، ان کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! عبداللہ بن زید نے اپنا مال صدقہ کر دیا ہے ، اور یہ وہی مال تھا ، جس پر اُس کی گزر بسر ہوتی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن زید کو بلایا اور فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارا صدقہ قبول کر لیا ہے اور اس مال کو وراثت کے طور پر تمہارے ماں باپ کو واپس کر دیا ہے “ ۔ بشیر نامی راوی کہتے ہیں : تو ہم اس زمین کے وارث بنے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، بشیر نامی اس راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7196
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي كُلُّهُ صَدَقَةٌ . قَالَ : فَافْتَقَرَ أَبَوَاهُ حَتَّى جَلَسَا مَعَ الْأَوْفَاضِ ، ثُمَّ جَاءَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ ابْنُنَا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ مَالًا فَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ وَافْتَقَرْنَا حَتَّى جَلَسْنَا مَعَ الْأَوْفَاضِ . قَالَ : " صَدَقَةُ ابْنِكُمَا رَدٌّ عَلَيْكُمَا " . ¤ ثُمَّ تُوُفِّيَا فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى ابْنِهِمَا : " أَنِ ارْدُدِ الصَّدَقَةَ ، فَإِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تُوَرَّثُ ، وَلَا تُعْتَمَرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا پورا مال صدقہ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے ماں باپ غریب ہو گئے اور محتاجوں کے ساتھ بیٹھ گئے ، پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے بیٹے کے پاس انصار میں سب سے زیادہ زمین تھی ، اس نے اپنا مال ( یعنی زمین ) صدقہ کر دی اور ہم محتاج ہو گئے ، یہاں تک کہ محتاجوں کے ساتھ بیٹھ گئے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بیٹے کا صدقہ تمہاری طرف واپس آ جائے گا ۔ پھر ان دونوں کا انتقال ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے بیٹے کی طرف پیغام بھیجا کہ تم صدقہ واپس کر دو ! کیونکہ صدقہ وراثت میں منتقل نہیں ہوتا ، اور عمری کے طور پر نہیں دیا جاتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7197
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً