حدیث نمبر: 7207
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَمْنَعُ حَبَشَ بَنِي الْمُغِيرَةِ أَنْ يَأْتُوكَ إِلَّا أَنَّهُمْ يَخْشَوْنَ أَنْ تَرُدَّهُمْ . قَالَ : " لَا خَيْرَ فِي الْحَبَشِ . إِذَا جَاعُوا سَرَقُوا ، وَإِنْ شَبِعُوا زَنَوْا ، وَإِنَّ فِيهِمْ لِخَلَّتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ : إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَبَأْسٌ عِنْدَ الْبَأْسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ وَلَفْظُهُ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا خَيْرَ فِي الْحَبَشِ . إِنْ شَبِعُوا زَنَوْا ، وَإِنَّ فِيهِمْ لِخَلَّتَيْنِ : إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَبَأْسٌ عِنْدَ الْبَأْسِ " . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ وَعَوْسَجَةُ الْمَكِّيُّ فِيهِ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ، وَوَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! بنو مغیرہ کے حبشیوں کے لئے کیا رکاوٹ ہے ؟ کہ وہ آپ کے پاس آئیں ، صرف یہ وجہ ہے کہ آپ انہیں واپس کر دیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حبشیوں میں بھلائی نہیں ہے ، جب وہ بھوکے ہوں ، تو چوری کر لیتے ہیں اور جب سیر ہوں تو زنا کرتے ہیں ، ان کے اندر دو اچھی چیزیں ہیں کھانا کھلانا اور لڑائی کے وقت بہادری ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حبشیوں میں بھلائی نہیں ہے ، اگر وہ سیر ہوں ، تو زنا کرتے ہیں ، لیکن ان میں دو خوبیاں ہیں ، کھانا کھلانا اور لڑائی کے وقت مضبوطی “ ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ، عوسجہ مکی نامی راوی کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7207
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2836) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12213)»