مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَعْطَى عَطِيَّةً، ثُمَّ وَرِثَهَا . باب: جو شخص عطیہ کے طور پر کوئی چیز دے اور پھر اس کا وارث بن جائے
وَعَنْ بِشْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الَّذِي أَدَّى النِّدَاءَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : تَصَدَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ بِمَالٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ ، وَكَانَ يَعِيشُ فِيهِ هُوَ وَوَلَدُهُ فَدَفَعَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ أَبُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ تَصَدَّقَ بِمَالِهِ ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَعِيشُ فِيهِ . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبِلَ صَدَقَتَكَ فَرَدَّهَا مِيرَاثًا عَلَى أَبَوَيْكَ " . ¤ قَالَ بَشِيرٌ : فَتَوَارَثْنَاهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَبَشِيرٌ هَذَا لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤بشیر بن محمد بن عبداللہ بن زید ، جنہوں نے اذان سے متعلق روایت ، اپنے والد کے حوالے سے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ایک مال صدقہ کیا ، اُن کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا ، وہ اور ان کی اولاد اُسی کے حوالے سے گزر بسر کرتے تھے ، انہوں نے وہ مال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیا ، ان کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! عبداللہ بن زید نے اپنا مال صدقہ کر دیا ہے ، اور یہ وہی مال تھا ، جس پر اُس کی گزر بسر ہوتی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن زید کو بلایا اور فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارا صدقہ قبول کر لیا ہے اور اس مال کو وراثت کے طور پر تمہارے ماں باپ کو واپس کر دیا ہے “ ۔ بشیر نامی راوی کہتے ہیں : تو ہم اس زمین کے وارث بنے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، بشیر نامی اس راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔