مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَعْطَى عَطِيَّةً، ثُمَّ وَرِثَهَا . باب: جو شخص عطیہ کے طور پر کوئی چیز دے اور پھر اس کا وارث بن جائے
حدیث نمبر: 7193
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً فِي حَيَاتِهَا ، وَإِنَّهَا تُوُفِّيَتْ ، وَلَمْ تَدَعْ وَارِثًا غَيْرِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - أَحْسَبُهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَدَّ عَلَيْكَ حَدِيقَتَكَ وَقَبِلَ صَدَقَتَكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ میں نے اپنی والدہ کو ان کی زندگی میں ایک باغ عطیہ کے طور پر دیا ، اُن کا انتقال ہو گیا ، انہوں نے میرے علاوہ کوئی اور وارث نہیں چھوڑا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارا باغ تمہیں واپس کر دیا ہے اور تمہارا صدقہ قبول کر لیا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔