مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَعْطَى عَطِيَّةً، ثُمَّ وَرِثَهَا . باب: جو شخص عطیہ کے طور پر کوئی چیز دے اور پھر اس کا وارث بن جائے
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْطَى أُمَّهُ حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ حَيَاتَهَا ، فَمَاتَتْ فَجَاءَ إِخْوَتُهُ فَقَالُوا : نَحْنُ فِيهَا شَرَعٌ سَوَاءٌ . فَأَبَى فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَسَّمَهُ بَيْنَهُمْ مِيرَاثًا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ، اپنی والدہ کو ان کی زندگی میں کھجور کا ایک باغ عطیہ کے طور پر دیا ، اس خاتون کا انتقال ہو گیا ، اُس کے بھائی آئے اور انہوں نے کہا: ہم اس میں برابر کے حصہ دار ہوں گے اس شخص نے انکار کیا ، اُن لوگوں نے اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ ان لوگوں کے درمیان وراثت کے طور پر تقسیم کر دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔