حدیث نمبر: 7197
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي كُلُّهُ صَدَقَةٌ . قَالَ : فَافْتَقَرَ أَبَوَاهُ حَتَّى جَلَسَا مَعَ الْأَوْفَاضِ ، ثُمَّ جَاءَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ ابْنُنَا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ مَالًا فَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ وَافْتَقَرْنَا حَتَّى جَلَسْنَا مَعَ الْأَوْفَاضِ . قَالَ : " صَدَقَةُ ابْنِكُمَا رَدٌّ عَلَيْكُمَا " . ¤ ثُمَّ تُوُفِّيَا فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى ابْنِهِمَا : " أَنِ ارْدُدِ الصَّدَقَةَ ، فَإِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تُوَرَّثُ ، وَلَا تُعْتَمَرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا پورا مال صدقہ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے ماں باپ غریب ہو گئے اور محتاجوں کے ساتھ بیٹھ گئے ، پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے بیٹے کے پاس انصار میں سب سے زیادہ زمین تھی ، اس نے اپنا مال ( یعنی زمین ) صدقہ کر دی اور ہم محتاج ہو گئے ، یہاں تک کہ محتاجوں کے ساتھ بیٹھ گئے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بیٹے کا صدقہ تمہاری طرف واپس آ جائے گا ۔ پھر ان دونوں کا انتقال ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے بیٹے کی طرف پیغام بھیجا کہ تم صدقہ واپس کر دو ! کیونکہ صدقہ وراثت میں منتقل نہیں ہوتا ، اور عمری کے طور پر نہیں دیا جاتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7197
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً