حدیث نمبر: 7195
وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ شَيْءٍ لِي فَهُوَ صَدَقَةٌ إِلَّا فَرَسِي . وَكَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَقَبَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَهَا فِي الْأَوْفَاضِ، فَجَاءَ أَبَوَاهُ ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطْعِمْنَا مِنْ صَدَقَةِ ابْنِنَا مَا لَنَا شَيْءٌ ، وَإِنَّا لَنَطُوفُ مَعَ الْأَوْفَاضِ . فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَجَّعَهَا إِلَيْهِمَا ، فَمَاتَا فَوَرِثَهَا ابْنُهُمَا الَّذِي كَانَ تَصَدَّقَ بِهَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَدَقَتِي الَّتِي كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِهَا فَدَفَعْتَهَا إِلَى وَالِدَيَّ فَمَاتَا فَوَرِثْتُهُمَا أَفَحَلَالٌ هِيَ لِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ فَكُلْهَا هَنِيئًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری ہر چیز صدقہ ہے ، البتہ میرے اس گھوڑے کا معاملہ مختلف ہے ، اس شخص کی زمین تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ زمین قبضے میں لی اور محتاج لوگوں میں اسے تقسیم کرنا شروع کی ، اُس کے ماں باپ آئے اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے بیٹے کے صدقہ کیے ہوئے ، میں سے ہمیں بھی کھانے کے لئے دیں ، ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، ہم بھی غریب لوگوں کے ساتھ چکر لگاتے پھرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ زمین لی اور وہ ان دونوں کو واپس کر دی ، جب ان دونوں کا انتقال ہوا ، تو ان دونوں کا بیٹا اس کا وارث بنا ، جس نے وہ زمین صدقہ کے طور پر دی تھی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا وہ صدقہ ، جو میں نے صدقہ کیا تھا ، اور آپ نے وہ میرے والدین کے حوالے کر دیا تھا ، اب ان دونوں کا انتقال ہو گیا ہے ، اور اب میں ان کا وارث بنا ہوں ، تو کیا وہ زمین میرے لئے حلال ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم خوش ہو کر اسے کھاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اسحاق بن یحییٰ نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7195
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع