مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَعْطَى عَطِيَّةً، ثُمَّ وَرِثَهَا . باب: جو شخص عطیہ کے طور پر کوئی چیز دے اور پھر اس کا وارث بن جائے
وَعَنْ سِنَانِ بْنِ مَسْلَمَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ تَصَدَّقَ بِأَرْضٍ ( لَهُ ) عَظِيمَةٍ عَلَى أُمِّهِ فَمَاتَتْ وَلَيْسَ لَهَا وَارِثٌ غَيْرُهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ أُمِّي فُلَانَةً كَانَتْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَأَعَزِّهِ عَلَيَّ ، وَإِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَيْهَا بِأَرْضٍ ( لِي ) عَظِيمَةٍ فَمَاتَتْ وَلَيْسَ لَهَا وَارِثٌ غَيْرِي ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ بِهَا ؟ فَقَالَ : " أَوْجَبَ اللَّهُ أَجْرَكَ وَرَدَّ عَلَيْكَ أَرْضَكَ ، اصْنَعْ مَا شِئْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سنان بن مسلمہ بیان کرتے ہیں : مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنی ایک بڑی زمین ، اپنی والدہ کو صدقے کے طور پر دے دی ، اس خاتون کا انتقال ہو گیا ، اس خاتون کا وارث اس شخص کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے عرض کی : میری والدہ جو فلاں خاتون ہیں ، وہ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ معزز تھیں ، میں نے انہیں بڑی زمین صدقہ کے طور پر دی تھی ، اُن کا انتقال ہو گیا ہے ، ان کا وارث میرے علاوہ کوئی اور نہیں ہے ، تو اب آپ مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں ؟ میں اس زمین کے بارے میں کیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارے اجر کو واجب کر دیا ، اور تمہاری زمین تمہیں واپس کر دی ، اب تم جو چاہو کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔