کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: قرآن کی تعلیم دینے یا دیگر کاموں پر معاوضہ لینا
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ نَقْرَأُ فِينَا الْعَرَبِيُّ ، وَالْعَجَمِيُّ ، وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنْتُمْ بِخَيْرٍ تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ ، وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَيَأْتِي نَاسٌ يَثْقَفُونَهُ كَمَا يَثْقَفُونَ الْقَدَحَ ، يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم قرآن پڑھ رہے تھے ہمارے درمیان ایک عجمی موجود تھا اور ایک عربی تھا اور ایک سیاہ فام تھا ایک سفید فام تھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے آپ نے ارشاد فرمایا : تم بہترین حالت میں ہو کہ تم اللہ کی کتاب کی تلاوت کر رہے ہو اور تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اس کو یوں بنائیں سنواریں گے ، جس طرح پیالے کو بنایا سنوارا جاتا ہے ، اور وہ اس کا معاوضہ جلدی ( یعنی دنیا میں ) وصول کریں گے ، وہ اسے تاخیر سے ( یعنی آخرت میں ) وصول نہیں کرنا چاہیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ أَيْضًا : عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا - يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ فِيكُمْ خَيْرًا مِنْكُمْ ، يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ فِيكُمُ الْأَحْمَرُ ، وَالْأَبْيَضُ ، وَالْعَجَمِيُّ ، وَالْعَرَبِيُّ " فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارے درمیان تم سے بہتر فرد موجود ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، اور تم لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہو تمہارے درمیان سرخ فام اور سفید فام اور عجمی اور عربی موجود ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ : أَنْ عَلِّمِ النَّاسَ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَإِذَا عَلِمْتُمُوهُ فَلَا تَغْلُوا فِيهِ ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ ، وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلام بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ لوگوں کو اس چیز کی تعلیم دیں جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی باتیں سنی ہیں تو انہوں نے لوگوں کو جمع کیا اور یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ قرآن کا علم حاصل کرو اور جب تم اس کا علم حاصل کر لو تو اس کے بارے میں غلو نہ کرو اور اسے چھوڑ کر جفا نہ کرو اور اس کا معاوضہ نہ کھانا اور اس کے ذریعے ( مال کی ) کثرت کے طلبگار نہ ہونا“ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو آگے چل کر مکمل روایت کے طور پر آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الدُّوسِيِّ قَالَ : أَقْرَأَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْقُرْآنَ ، فَأَهْدَيْتُ لَهُ قَوْسًا فَغَدَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَقَدْ تَقَلَّدَهَا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَقَلَّدْهَا مِنْ جَهَنَّمَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا إِنَّمَا حَضَرْنَا طَعَامَهُمْ فَأَكَلْنَا مِنْهُ ؟ قَالَ : " أَمَّا مَا عُمِلَ لَكَ ، فَإِنَّمَا تَأْكُلُهُ بِخَلَاقِكَ ، وَأَمَّا مَا عُمِلَ لِغَيْرِكَ فَحَضَرْتَهُ فَأَكَلْتَ مِنْهُ فَلَا بَأْسَ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَلَا أَظُنُّهُ أَدْرَكَ الطُّفَيْلَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے قرآن پڑھایا میں نے تحفے کے طور پر انہیں کمان دی اگلے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے وہ کمان گلے میں لٹکائی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم نے جہنم میں سے لے کر اسے لٹکایا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم وہ لوگ ہیں کہ جب ہم کھانے کے پاس موجود ہوں تو اس میں سے کھا لیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو تمہارے لئے تیار کیا گیا ہو ، تو تم ( آخرت میں سے ) اپنے حصے کے عوض میں اسے کھاؤ گے اور جو تمہارے علاوہ کسی اور کے لئے تیار کیا گیا ہو اور تم وہاں موجود ہو ، تو تم اس میں سے کھا لو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلیمان بن عمیر ہے میں نے اس کے حالات بیان کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا اور میرا نہیں خیال کہ اس نے سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلیمان بن عمیر ہے میں نے اس کے حالات بیان کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا اور میرا نہیں خیال کہ اس نے سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے ۔
وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ : يَا إِسْمَاعِيلُ أَدِّبْ وَلَدِي ، فَإِنِّي مُعْطِيكَ قَالَ : فَكَيْفَ بِذَلِكَ ؟ وَقَدْ حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ يَأْخُذُ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ قَوْسًا قَلَّدَهُ اللَّهُ قَوْسًا مِنْ نَارٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَلَيْسَ هُوَ فِي الضُّعَفَاءِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اسماعیل بن عبیداللہ بیان کرتے ہیں : عبدالملک بن مروان نے مجھ سے کہا: اے اسماعیل ! میرے بچوں کی تربیت کرو میں تمہیں ادائیگی کروں گا انہوں نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ” جو شخص قرآن کی تعلیم دینے کے عوض میں ایک کمان حاصل کرے گا تو اللہ تعالی آگ کی بنی ہوئی کمان اس کے گلے میں ڈالے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں یحیی بن عبدالعزیز کے حوالے سے ولید بن مسلم سے نقل کی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اور نہ ہی یہ ضعیف راویوں میں ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں یحیی بن عبدالعزیز کے حوالے سے ولید بن مسلم سے نقل کی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اور نہ ہی یہ ضعیف راویوں میں ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : خَرَجَتْ سَرِيَّةٌ مِنْ سَرَايَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرُّوا بِبَعْضِ قَبَائِلِ الْعَرَبِ ، فَقَالُوا لَهُمْ : قَدْ بَلَغَنَا أَنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ جَاءَ بِالنُّورِ وَالشِّفَاءِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَدْ جَاءَ بِالنُّورِ وَالشِّفَاءِ . قَالُوا : فَإِنَّ عِنْدَنَا رَجُلًا يَتَخَبَّطُهُ - أَحْسَبُهُ قَالَ : الشَّيْطَانُ - فَهَذِهِ حَالُهُ . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : ائْتُونِي بِهِ . فَقَرَأَ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ ، فَسَاقُوا إِلَيْهِمْ غَنَمًا ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ عَلَى الْقُرْآنِ أَجْرًا . فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّمَا هَذِهِ كَرَامَةٌ أُكْرِمْتَ بِهَا ، وَلَيْسَ هُوَ أَجْرًا لِلْقُرْآنِ . فَذَبَحَ ، وَأَكَلَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ قَالُوا : حَتَّى نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَجَعْنَا . فَلَمَّا رَجَعُوا قَالَ الَّذِي أُهْدِيَ لَهُ الْغَنَمُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا مَرَرْنَا بِبَنِي فُلَانٍ وَقَالُوا : إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ جَاءَ بِالشِّفَاءِ وَالنُّورِ . فَقُلْنَا : نَعَمْ قَدْ جَاءَ بِالشِّفَاءِ وَالنُّورِ . فَقَالُوا : إِنَّ عِنْدَنَا مَنْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ . قُلْتُ : ائْتُونِي بِهِ . فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَبَرَأَ فَسَاقُوا إِلَيْنَا غَنِيمَةً ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِي : لَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْكُلَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا عَلَّمَكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : عَلِمْتُ أَنْ أَرْقِيَ مِنْ كَلَامِ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَصَابَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ ، فَقَدْ أَصَبْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ ، كُلْ وَأَطْعِمْ أَصْحَابَكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روانہ کی ہوئی ایک جنگی مہم روانہ ہوئی ان لوگوں کا گزر عربوں کے کسی قبیلے کے پاس سے ہوا ان لوگوں نے ان اصحاب سے دریافت کیا کہ ہمیں یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ کے آقا نور اور شفاء لے کے آئے ہیں ؟ صحابہ کرام نے جواب دیا : جی ہاں ! وہ نور اور شفاء لے کے آئے ہیں قبیلے والوں نے کہا: ہمارے پاس ایک شخص ہے ، جسے شیطان نے خبط الحواس بنا دیا ہے ، تو اس کی حالت یہ ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے کہا: تم اسے میرے پاس لے کے آؤ اس انصاری نے تین مرتبہ سورت فاتحہ پڑھ کر اس شخص پر دم کر دیا تو وہ شخص ٹھیک ہو گیا وہ لوگ بکریاں لے کر صحابہ کرام کے پاس آ گئے تو صحابہ کرام میں سے کسی نے یہ کہا: کہ تمہارے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ تم قرآن کا معاوضہ وصول کرو ان میں سے کسی نے یہ کہا: کہ یہ عزت افزائی ہے ، جس کے ذریعے تمہاری عزت افزائی کی گئی ہے یہ قرآن کا معاوضہ نہیں ہے پھر انہوں نے جانور کو ذبح کر لیا تو کچھ صحابہ کرام نے اس کا گوشت کھا لیا اور جنہوں نے نہیں کھایا تھا انہوں نے کہا: جب تک ہم واپس جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہیں کر لیتے ( ہم اس کا گوشت نہیں کھائیں گے ) جب وہ لوگ واپس آئے تو جن صاحب کو وہ بکریاں تحفے کے طور پر دی گئی تھیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا گزر بنو فلاں کے پاس سے ہوا انہوں نے کہا: تمہارے آقا شفار اور نور لے کے آئے ہیں ہم نے کہا: جی ہاں ! وہ شفاء اور نور لے کے آئے ہیں ان لوگوں نے کہا: ہمارے پاس ایک ایسا شخص ہے ، جسے شیطان نے مخبوط الحواس بنا لیا ہے ، تو میں نے کہا: تم اسے میرے پاس لے کے آؤ تو میں نے اس پر تین مرتبہ سورت فاتحہ پڑ کر دم کیا ، تو وہ ٹھیک ہو گیا وہ لوگ میرے پاس بکریاں لے کے آ گئے تو میرے ساتھیوں میں سے ایک نے کہا: تمہارے لئے اس کو کھانا حلال نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کس نے اس بات کی تعلیم دی ہے کہ یہ دم کے الفاظ ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: مجھے اس بات کا علم ہے کہ میں اللہ کے کلام کے ذریعے دم کر رہا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص باطل الفاظ کے ذریعے نتیجہ حاصل کر لے ( تو وہ بھی حاصل کر لیتا ہے ) تم نے دم کے حق الفاظ کے ذریعے صحیح نتیجہ حاصل کیا ہے تم خود بھی کھاؤ اور اپنے ساتھیوں کو بھی کھلاؤ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن اسماعیل بن مجالد ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن اسماعیل بن مجالد ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے ۔
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَهُ رَجُلٌ يُعَلِّمُهُ الْقُرْآنَ ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : صَاحِبِي الَّذِي تَرَاهُ مَعِيَ اشْتَرَى قَوْسًا ، وَأَهْدَاهَا إِلَيَّ ، أَفَآخُذُهَا مِنْهُ ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا " فَمَكَثَ حَتَّى إِذَا كَانَ رَأْسُ الْحَوْلِ عَادَ قَالَ : آخُذُ تِلْكَ الْقَوْسَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا " ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا كَانَ رَأْسُ الْحَوْلِ قَالَ : آخُذُ تِلْكَ الْقَوْسَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا " ، قَالَ أَفَلَا آخُذُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَتَكُونُ عُدَّةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتُرِيدُ أَنْ تَلْقَى اللَّهَ يَا عَوْفُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبَيْنَ كَتِفَيْكَ جَمْرَةٌ مِنْ جَهَنَّمَ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کے ساتھ ایک شخص تھا جسے وہ قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرا وہ ساتھی جسے آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوا ہے وہ میرے ساتھ تھا اس نے کمان خریدی اور وہ مجھے تحفے کے طور پر دے دی کیا میں وہ اس سے لے لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! وہ کچھ عرصہ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ ایک سال گزر گیا تو وہ دوبارہ آئے اور بولے : یا رسول اللہ ! میں وہ کمان لے لوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! پھر وہ کچھ عرصہ ٹھہرے رہے پھر انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں وہ کمان لے لوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اسے لے نہ لوں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تیاری کے لئے شمار ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عوف کیا تم یہ چاہتے ہو کہ قیامت کے دن جب تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو ، تو تمہارے دونوں کندھوں کے درمیان جہنم کا انگارہ رکھا ہوا ہو ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ الْمُثَنَّى بْنِ وَائِلٍ قَالَ : أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بِشْرٍ فَمَسَحَ رَأْسِي وَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى ذِرَاعِهِ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ أَجْرِ الْمُعَلِّمِ ؟ فَقَالَ : دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مُتَنَكِّبٌ قَوْسًا فَأَعْجَبَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا أَجُودَ قَوْسَكَ أَشْتَرَيْتَهَا ؟ " . قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ أَهْدَاهَا إِلَيَّ رَجُلٌ أَقَرَأْتُ ابْنَهُ الْقُرْآنَ . قَالَ : " فَتُحِبُّ أَنْ يُقَلِّدَكَ اللَّهُ قَوْسًا مِنْ نَارٍ ؟ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " فَرَدُّوهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَالْمُثَنَّى وَوَلَدُهُ ذَكَرَهُمَا ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَجْرَحْ وَاحِدًا مِنْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مثنی بن وائل بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن بشر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرا ہاتھ اپنی کلائی پر رکھ دیا ایک شخص نے ان سے تعلیم دینے والے کے معاوضے کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جس نے ایک کمان لٹکائی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اچھی لگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری کمان کتنی اچھی ہے کیا تم نے اسے خریدا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! مجھے ایک شخص نے یہ تحفے کے طور پر دی ہے ، جس کے بیٹے کو میں نے قرآن سکھایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہوئے کہ اللہ تعالی تمہارے گلے میں آگ کی بنی ہوئی کمان پہنائے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! راوی بیان کرتے ہیں : ( یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تم اسے واپس کر دو ( یا ان لوگوں نے اسے واپس کر دیا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مثنی اور ان کے صاحبزادے ان دونوں کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے لیکن انہوں نے ان دونوں میں سے کسی پر جرح نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مثنی اور ان کے صاحبزادے ان دونوں کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے لیکن انہوں نے ان دونوں میں سے کسی پر جرح نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ نَاسٌ مِنَ الْأُسَرَاءِ يَوْمَ بَدْرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِدَاءٌ فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ قَالَ : فَجَاءَ يَوْمًا غُلَامٌ يَبْكِي إِلَى أَبِيهِ قَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي قَالَ : الْخَبِيثُ يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ ، وَاللَّهِ لَا يَأْتِيهِ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ ، وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ وَالْخَطَإِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے قیدیوں میں سے کچھ لوگ تھے جو فدیہ نہیں دے سکتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا فدیہ یہ مقرر کیا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا سکھائیں ایک دن ان بچوں میں سے ایک لڑکا روتا ہوا اپنے باپ کے پاس آیا اس کے والد نے دریافت کیا : کیا تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اس نے جواب دیا : میرے معلم نے مجھے مارا ہے ، اس کے باپ نے کہا: وہ خبیث شخص بدر کا غصہ نکالنا چاہتا ہے ، اللہ کی قسم ! وہ اس کے پاس کبھی نہیں آئے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے علی بن عاصم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ بکثرت غلطیاں اور خطائیں کرنے والا شخص ہے امام أحمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے علی بن عاصم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ بکثرت غلطیاں اور خطائیں کرنے والا شخص ہے امام أحمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔