مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَجْرِ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: قرآن کی تعلیم دینے یا دیگر کاموں پر معاوضہ لینا
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ نَقْرَأُ فِينَا الْعَرَبِيُّ ، وَالْعَجَمِيُّ ، وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنْتُمْ بِخَيْرٍ تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ ، وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَيَأْتِي نَاسٌ يَثْقَفُونَهُ كَمَا يَثْقَفُونَ الْقَدَحَ ، يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم قرآن پڑھ رہے تھے ہمارے درمیان ایک عجمی موجود تھا اور ایک عربی تھا اور ایک سیاہ فام تھا ایک سفید فام تھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے آپ نے ارشاد فرمایا : تم بہترین حالت میں ہو کہ تم اللہ کی کتاب کی تلاوت کر رہے ہو اور تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اس کو یوں بنائیں سنواریں گے ، جس طرح پیالے کو بنایا سنوارا جاتا ہے ، اور وہ اس کا معاوضہ جلدی ( یعنی دنیا میں ) وصول کریں گے ، وہ اسے تاخیر سے ( یعنی آخرت میں ) وصول نہیں کرنا چاہیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔