مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَجْرِ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: قرآن کی تعلیم دینے یا دیگر کاموں پر معاوضہ لینا
وَعَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ : أَنْ عَلِّمِ النَّاسَ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَإِذَا عَلِمْتُمُوهُ فَلَا تَغْلُوا فِيهِ ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ ، وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ابوسلام بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ لوگوں کو اس چیز کی تعلیم دیں جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی باتیں سنی ہیں تو انہوں نے لوگوں کو جمع کیا اور یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ قرآن کا علم حاصل کرو اور جب تم اس کا علم حاصل کر لو تو اس کے بارے میں غلو نہ کرو اور اسے چھوڑ کر جفا نہ کرو اور اس کا معاوضہ نہ کھانا اور اس کے ذریعے ( مال کی ) کثرت کے طلبگار نہ ہونا“ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو آگے چل کر مکمل روایت کے طور پر آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔