مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَجْرِ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: قرآن کی تعلیم دینے یا دیگر کاموں پر معاوضہ لینا
وَعَنِ الْمُثَنَّى بْنِ وَائِلٍ قَالَ : أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بِشْرٍ فَمَسَحَ رَأْسِي وَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى ذِرَاعِهِ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ أَجْرِ الْمُعَلِّمِ ؟ فَقَالَ : دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مُتَنَكِّبٌ قَوْسًا فَأَعْجَبَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا أَجُودَ قَوْسَكَ أَشْتَرَيْتَهَا ؟ " . قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ أَهْدَاهَا إِلَيَّ رَجُلٌ أَقَرَأْتُ ابْنَهُ الْقُرْآنَ . قَالَ : " فَتُحِبُّ أَنْ يُقَلِّدَكَ اللَّهُ قَوْسًا مِنْ نَارٍ ؟ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " فَرَدُّوهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَالْمُثَنَّى وَوَلَدُهُ ذَكَرَهُمَا ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَجْرَحْ وَاحِدًا مِنْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤مثنی بن وائل بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن بشر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرا ہاتھ اپنی کلائی پر رکھ دیا ایک شخص نے ان سے تعلیم دینے والے کے معاوضے کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جس نے ایک کمان لٹکائی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اچھی لگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری کمان کتنی اچھی ہے کیا تم نے اسے خریدا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! مجھے ایک شخص نے یہ تحفے کے طور پر دی ہے ، جس کے بیٹے کو میں نے قرآن سکھایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہوئے کہ اللہ تعالی تمہارے گلے میں آگ کی بنی ہوئی کمان پہنائے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! راوی بیان کرتے ہیں : ( یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تم اسے واپس کر دو ( یا ان لوگوں نے اسے واپس کر دیا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مثنی اور ان کے صاحبزادے ان دونوں کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے لیکن انہوں نے ان دونوں میں سے کسی پر جرح نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔