کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: پچھنے لگانے والے اور دیگر لوگوں کی کمائی کا حکم
حدیث نمبر: 6432
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے والے کی کمائی سے منع فرمایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6433
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَهَبْتُ لِخَالَتِي فَاخِتَةَ بِنْتِ عَمْرٍو غُلَامًا وَأَمَرْتُهَا أَنْ لَا تَجْعَلَهُ حَازِرًا ، وَلَا صَانِعًا ، وَلَا حَجَّامًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں نے اپنی خالہ فاختہ بنت عمرو کو ایک غلام ہبہ کیا اور اس خاتون کو یہ ہدایت کی کہ آپ نے اسے قصائی ، یا بڑھئی ، یا پچھنے لگانے والا نہیں بنانا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن وقاصی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن وقاصی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 6434
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : مُحَيِّصَةُ كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ فَزَجَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ كَسْبِهِ قَالَ : أَفَلَا أُطْعِمُهُ أَيْتَامًا لِي ؟ قَالَ : " لَا " قَالَ : أَفَلَا أَتَصَدَّقُ بِهِ ؟ قَالَ : " لَا " فَرَخَّصَ لَهُ أَنْ يَعْلِفَ بِهِ نَاضِحَهُ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي السُّنَنِ الثَّلَاثَةِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام محیصہ ہے ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان کا ایک غلام تھا جو پچھنے لگایا کرتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو اس کی کمائی سے منع کر دیا ان صاحب نے عرض کی : کیا میں وہ کمائی اپنے زیر پرورش یتیم بچوں کو نہ کھلا دیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : کیا میں اس کو صدقہ نہ کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ رخصت دی کہ وہ اس کے ذریعے اپنے اونٹ کو چارہ کھلا دیا کریں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت تینوں ” سنن “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت تینوں ” سنن “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6435
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبَايَةَ بْنَ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ يُحَدِّثُ أَنَّ جَدَّهُ حِينَ مَاتَ تَرَكَ جَارِيَةً ، وَنَاضِحًا ، وَغُلَامًا حَجَّامًا ، وَأَرْضًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْجَارِيَةِ ، فَنَهَى عَنْ كَسْبِهَا - قَالَ شُعْبَةُ : مَخَافَةَ أَنْ تَبْتَغِيَ - وَقَالَ : " مَا أَصَابَ الْحَجَّامُ فَأَعْلِفُوهُ النَّاضِحَ " . وَقَالَ فِي الْأَرْضِ : " ازْرَعْهَا ، أَوْ ذَرْهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن ابوسلیم بیان کرتے ہیں : میں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا کہ جب ان کے دادا کا انتقال ہوا تو انہوں نے ایک کنیز ایک اونٹنی اور ایک پچھنے لگانے والا غلام اور ایک زمین چھوڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کینز کے بارے میں یہ فرمایا کہ آپ نے اس کی کمائی سے منع کر دیا شعبہ کہتے ہیں : اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ فاحشہ نہ بن جائے اور آپ نے یہ فرمایا پچھنے لگانے والا جو کمائی کرے گا وہ تم اونٹ کو کھلا دینا زمین کے بارے میں آپ نے یہ فرمایا کہ تم خود اس پر کھیتی باڑی کرو یا اسے ایسے رہنے دو ( یعنی اسے ٹھیکے پر نہ دینا ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6436
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ فَقَالَ : " اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگانے والے کی کمائی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : تم اس کے ذریعے اپنے اونٹ کو چارہ کھلا دو ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6437
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا طِيبَةَ فَحَجَمَهُ ، قَالَ : فَسَأَلَهُ : " كَمْ ضَرِيبَتُكَ ؟ " . قَالَ : ثَلَاثَةٌ آصُعٍ . فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، وَقِيلَ : إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو بلایا انہوں نے آپ کو پچھنے لگائے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہارا اخراج کتنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : تین صاع ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع معاف کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ
یہ روایت جعفر بن ابووحشیہ کے حوالے سے سلیمان بن قیس سے منقول ہے اور ایک قول کے مطابق جعفر نے ان سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ
یہ روایت جعفر بن ابووحشیہ کے حوالے سے سلیمان بن قیس سے منقول ہے اور ایک قول کے مطابق جعفر نے ان سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 6438
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - احْتَجَمَ فِي الْأَخْدَعِينَ ، وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ . وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ جُبَارَةُ بْنُ مُغَلِّسٍ وَثَّقَهُ ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ ، وَرَمَاهُ ابْنُ مَعِينٍ بِالْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخدع نامی دو رگوں میں اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنے لگوائے تھے اور آپ نے پچھنے لگانے والے کو اس کا معاوضہ دیا تھا اگر یہ حرام ہوتا تو آپ اسے ادا نہ کرتے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جبارہ بن مفلس ہے ، جسے ابن نمیر نے ثقہ قرار دیا ہے اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے یحیی بن معین نے اس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جبارہ بن مفلس ہے ، جسے ابن نمیر نے ثقہ قرار دیا ہے اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے یحیی بن معین نے اس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 6439
وَعَنْ أَبِي جَمِيلَةَ الطُّهَوِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ حِينَ فَرَغَ : " كَمْ خَرَاجُكَ ؟ " . قَالَ : صَاعَانِ . فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُهُ صَاعًا . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوجمیلہ طہوی بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے جب وہ فارغ ہوا تو آپ نے حجام سے دریافت کیا : تمہار اخراج کتنا ہے ؟ اس نے جواب دیا دو صاع تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک صاع معاف کر دیا اور آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اسے ایک صاع دے دوں ۔
یہ روایت امام عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 6440
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - احْتَجَمَ ، وَأَنَّ الْحَجَّامَ شَكَا إِلَيْهِ ضَرِيبَتَهُ ، فَأَرْسَلَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ ضَرِيبَتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے پچھنے لگانے والے نے آپ کی خدمت میں اپنے خراج کی شکایت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آقاؤں کو پیغام بھیجا کہ وہ اس کے خراج میں اس کے لئے تخفیف کر دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6441
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ دِينَارًا . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ ، وَغَيْرِهِ خَلَا ذِكْرَ الدِّينَارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ شَرِيكٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کا معاوضہ ایک دینار ادا کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے اور دیگر کتابوں میں بھی ہے تاہم ان میں دینار کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن سعید بن مسیب بن شریک ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن سعید بن مسیب بن شریک ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6442
وَعَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَقَالَ : " أَعْلِفْهُ نَاضِحَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کا معاوضہ دیا آپ نے ارشاد فرمایا : تم اس کے ذریعے اپنے اونٹ کو چارہ کھلا دینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک ہے ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک ہے ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔