حدیث نمبر: 6451
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ نَاسٌ مِنَ الْأُسَرَاءِ يَوْمَ بَدْرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِدَاءٌ فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ قَالَ : فَجَاءَ يَوْمًا غُلَامٌ يَبْكِي إِلَى أَبِيهِ قَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي قَالَ : الْخَبِيثُ يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ ، وَاللَّهِ لَا يَأْتِيهِ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ ، وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ وَالْخَطَإِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے قیدیوں میں سے کچھ لوگ تھے جو فدیہ نہیں دے سکتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا فدیہ یہ مقرر کیا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا سکھائیں ایک دن ان بچوں میں سے ایک لڑکا روتا ہوا اپنے باپ کے پاس آیا اس کے والد نے دریافت کیا : کیا تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اس نے جواب دیا : میرے معلم نے مجھے مارا ہے ، اس کے باپ نے کہا: وہ خبیث شخص بدر کا غصہ نکالنا چاہتا ہے ، اللہ کی قسم ! وہ اس کے پاس کبھی نہیں آئے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے علی بن عاصم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ بکثرت غلطیاں اور خطائیں کرنے والا شخص ہے امام أحمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6451
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (2216) ورواه الحاكم فى المستدرك (140/2)»