مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَجْرِ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: قرآن کی تعلیم دینے یا دیگر کاموں پر معاوضہ لینا
وَعَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الدُّوسِيِّ قَالَ : أَقْرَأَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْقُرْآنَ ، فَأَهْدَيْتُ لَهُ قَوْسًا فَغَدَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَقَدْ تَقَلَّدَهَا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَقَلَّدْهَا مِنْ جَهَنَّمَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا إِنَّمَا حَضَرْنَا طَعَامَهُمْ فَأَكَلْنَا مِنْهُ ؟ قَالَ : " أَمَّا مَا عُمِلَ لَكَ ، فَإِنَّمَا تَأْكُلُهُ بِخَلَاقِكَ ، وَأَمَّا مَا عُمِلَ لِغَيْرِكَ فَحَضَرْتَهُ فَأَكَلْتَ مِنْهُ فَلَا بَأْسَ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَلَا أَظُنُّهُ أَدْرَكَ الطُّفَيْلَ . ¤سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے قرآن پڑھایا میں نے تحفے کے طور پر انہیں کمان دی اگلے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے وہ کمان گلے میں لٹکائی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم نے جہنم میں سے لے کر اسے لٹکایا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم وہ لوگ ہیں کہ جب ہم کھانے کے پاس موجود ہوں تو اس میں سے کھا لیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو تمہارے لئے تیار کیا گیا ہو ، تو تم ( آخرت میں سے ) اپنے حصے کے عوض میں اسے کھاؤ گے اور جو تمہارے علاوہ کسی اور کے لئے تیار کیا گیا ہو اور تم وہاں موجود ہو ، تو تم اس میں سے کھا لو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلیمان بن عمیر ہے میں نے اس کے حالات بیان کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا اور میرا نہیں خیال کہ اس نے سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے ۔