کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: کون سے معاوضے کو مکروہ ( یا حرام ) قرار دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 6452
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَمَعَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ فَوَجَدْتُ قَوْمًا يُرِيدُونَ أَنْ يَنْحَرُوا جَزُورًا ، فَقُلْتُ : أُعِينُكُمْ عَلَيْهَا ، وَأَنْحَرُهَا وَتُعْطُونِي مِنْهَا شَيْئًا ؟ قَالُوا : نَعَمْ . فَفَعَلْتُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ : قَدْ تَعَجَّلْتَ أَجْرَكَ وَمَا أَنَا بِآكِلِهِ . وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مِثْلَ ذَلِكَ . فَتَقَدَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : " أَصَاحِبُ الْجَزُورِ ؟ ! " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ الْهَرِمِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوئے ہمارے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے ہمیں شدید بھوک لاحق ہوئی میں نے کچھ لوگوں کو پایا کہ وہ یہ ارادہ کر رہے ہیں کہ وہ کسی اونٹ کو قربان کر دیں میں نے کہا: میں اس حوالے سے تم لوگوں کی مدد کروں گا اور میں اسے نحر ( قربان ) کروں گا تم اس میں سے کچھ ( گوشت ) مجھے دے دینا انہوں نے کہا: ٹھیک ہے میں نے ایسا ہی ہے اس بات کا ذکر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا تم نے اپنا اجر حاصل کرنے میں جلدی کی ہے میں اسے نہیں کھاؤں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس کی مانند بات کہی پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظ فرمایا تو ارشاد فرمایا : کیا یہ اونٹ والا شخص ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ربیعہ بن ہرم ہے میں نے کسی سے اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ربیعہ بن ہرم ہے میں نے کسی سے اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6453
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِثْلِ حَدِيثٍ يَأْتِي ، وَهَذَا قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَخْرُجُ مَعَكَ عَلَى أَنْ تَجْعَلَ لِي سَهْمًا مِنَ الْمَغْنَمِ . ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَتَغْنَمُونَ أَمْ لَا ؟ ، وَلَكِنِ اجْعَلْ لِي سَهْمًا مَعْلُومًا . فَجَعَلْتُ لَهُ ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ فَغَزَوْنَا ، فَأَصَبْنَا مَغْنَمًا ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أُحِلُّ لَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا دَنَانِيرَهُ هَذِهِ الثَّلَاثَةَ الَّتِي أَخَذَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کرتے ہیں : جو آئے گی اس روایت میں یہ ہے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک جنگی مہم پر بھیجا ایک شخص نے کہا: میں آپ کے ساتھ جاؤں گا اس شرط پر کہ آپ مال غنیمت میں سے ایک حصہ مجھے دیں گے پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم مجھے تو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ کیا کوئی مال غنیمت ملے گا بھی یا نہیں ملے گا ؟ بلکہ آپ ایک متعین حصہ ( یعنی معاوضہ ) میرے لئے مقرر کریں میں نے اس کے لئے تین دینار مقرر کر دیے پھر ہم نے جنگ میں حصہ لیا ہمیں مال غنیمت ملا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے دنیا اور آخرت میں سے صرف وہ تین دینا ملیں گے جو اس نے حاصل کر لیے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔