حدیث نمبر: 6448
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : خَرَجَتْ سَرِيَّةٌ مِنْ سَرَايَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرُّوا بِبَعْضِ قَبَائِلِ الْعَرَبِ ، فَقَالُوا لَهُمْ : قَدْ بَلَغَنَا أَنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ جَاءَ بِالنُّورِ وَالشِّفَاءِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَدْ جَاءَ بِالنُّورِ وَالشِّفَاءِ . قَالُوا : فَإِنَّ عِنْدَنَا رَجُلًا يَتَخَبَّطُهُ - أَحْسَبُهُ قَالَ : الشَّيْطَانُ - فَهَذِهِ حَالُهُ . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : ائْتُونِي بِهِ . فَقَرَأَ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ ، فَسَاقُوا إِلَيْهِمْ غَنَمًا ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ عَلَى الْقُرْآنِ أَجْرًا . فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّمَا هَذِهِ كَرَامَةٌ أُكْرِمْتَ بِهَا ، وَلَيْسَ هُوَ أَجْرًا لِلْقُرْآنِ . فَذَبَحَ ، وَأَكَلَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ قَالُوا : حَتَّى نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَجَعْنَا . فَلَمَّا رَجَعُوا قَالَ الَّذِي أُهْدِيَ لَهُ الْغَنَمُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا مَرَرْنَا بِبَنِي فُلَانٍ وَقَالُوا : إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ جَاءَ بِالشِّفَاءِ وَالنُّورِ . فَقُلْنَا : نَعَمْ قَدْ جَاءَ بِالشِّفَاءِ وَالنُّورِ . فَقَالُوا : إِنَّ عِنْدَنَا مَنْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ . قُلْتُ : ائْتُونِي بِهِ . فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَبَرَأَ فَسَاقُوا إِلَيْنَا غَنِيمَةً ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِي : لَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْكُلَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا عَلَّمَكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : عَلِمْتُ أَنْ أَرْقِيَ مِنْ كَلَامِ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَصَابَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ ، فَقَدْ أَصَبْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ ، كُلْ وَأَطْعِمْ أَصْحَابَكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روانہ کی ہوئی ایک جنگی مہم روانہ ہوئی ان لوگوں کا گزر عربوں کے کسی قبیلے کے پاس سے ہوا ان لوگوں نے ان اصحاب سے دریافت کیا کہ ہمیں یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ کے آقا نور اور شفاء لے کے آئے ہیں ؟ صحابہ کرام نے جواب دیا : جی ہاں ! وہ نور اور شفاء لے کے آئے ہیں قبیلے والوں نے کہا: ہمارے پاس ایک شخص ہے ، جسے شیطان نے خبط الحواس بنا دیا ہے ، تو اس کی حالت یہ ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے کہا: تم اسے میرے پاس لے کے آؤ اس انصاری نے تین مرتبہ سورت فاتحہ پڑھ کر اس شخص پر دم کر دیا تو وہ شخص ٹھیک ہو گیا وہ لوگ بکریاں لے کر صحابہ کرام کے پاس آ گئے تو صحابہ کرام میں سے کسی نے یہ کہا: کہ تمہارے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ تم قرآن کا معاوضہ وصول کرو ان میں سے کسی نے یہ کہا: کہ یہ عزت افزائی ہے ، جس کے ذریعے تمہاری عزت افزائی کی گئی ہے یہ قرآن کا معاوضہ نہیں ہے پھر انہوں نے جانور کو ذبح کر لیا تو کچھ صحابہ کرام نے اس کا گوشت کھا لیا اور جنہوں نے نہیں کھایا تھا انہوں نے کہا: جب تک ہم واپس جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہیں کر لیتے ( ہم اس کا گوشت نہیں کھائیں گے ) جب وہ لوگ واپس آئے تو جن صاحب کو وہ بکریاں تحفے کے طور پر دی گئی تھیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا گزر بنو فلاں کے پاس سے ہوا انہوں نے کہا: تمہارے آقا شفار اور نور لے کے آئے ہیں ہم نے کہا: جی ہاں ! وہ شفاء اور نور لے کے آئے ہیں ان لوگوں نے کہا: ہمارے پاس ایک ایسا شخص ہے ، جسے شیطان نے مخبوط الحواس بنا لیا ہے ، تو میں نے کہا: تم اسے میرے پاس لے کے آؤ تو میں نے اس پر تین مرتبہ سورت فاتحہ پڑ کر دم کیا ، تو وہ ٹھیک ہو گیا وہ لوگ میرے پاس بکریاں لے کے آ گئے تو میرے ساتھیوں میں سے ایک نے کہا: تمہارے لئے اس کو کھانا حلال نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کس نے اس بات کی تعلیم دی ہے کہ یہ دم کے الفاظ ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: مجھے اس بات کا علم ہے کہ میں اللہ کے کلام کے ذریعے دم کر رہا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص باطل الفاظ کے ذریعے نتیجہ حاصل کر لے ( تو وہ بھی حاصل کر لیتا ہے ) تم نے دم کے حق الفاظ کے ذریعے صحیح نتیجہ حاصل کیا ہے تم خود بھی کھاؤ اور اپنے ساتھیوں کو بھی کھلاؤ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن اسماعیل بن مجالد ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6448
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1285)»