عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ ، وَالْغَنَمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ ، وَالسَّكِينَةُ ، وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بُعِثَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ ، وَبُعِثْتُ أَنَا ، وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونٹوں کے مالکان اور بکریوں کے مالکان نے باہمی طور پر فخر کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اونٹوں کے مالکان میں فخر اور تکبر ہوتا ہے اور بکریوں کے مالکان میں سکینت اور وقار ہوتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تھا وہ اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور جب مجھے معبوث کیا گیا تو اس وقت میں بھی اپنے اہل خانہ کی بکریاں ” جیا “ کے مقام پر چرایا کرتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
وَعَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ : مَرَّ أَبِي عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : غُنَيْمَةٌ لِي . قَالَ : نَعَمْ ، امْسَحْ رُغَامَهَا ، وَأَطِبْ مُرَاحَهَا ، وَصَلِّ فِي جَانِبِ مُرَاحِهَا ، فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ ، وَأْنَسْ بِهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهَا أَرْضٌ قَلِيلَةُ الْمَطَرِ " . يَعْنِي الْمَدِينَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
وہب بن کیسان بیان کرتے ہیں : میرے والد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے ۔ انہوں نے دریافت کیا : تم کہاں جا رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا اپنی بکریوں میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ اچھا ہے تم ان کے ناک پر ہاتھ پھیرو ، ان کے بیٹھنے کی جگہ کو صاف رکھو اور ان کے بیٹھنے کی جگہ کے پہلو میں نماز ادا کر لو کیونکہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہیں تم ان کے ساتھ انسیت رکھو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یہ زمین ایسی ہے جہاں بارش کم ہوتی ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ منورہ تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اتَّخِذِي غَنَمًا يَا أُمَّ هَانِئٍ ، فَإِنَّهَا تَغْدُو بِخَيْرٍ وَتَرُوحُ بِخَيْرٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهَا ابْنُ مَاجَهْ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے ام ہانی ! تم بکریاں رکھو کیونکہ یہ صبح کے وقت بھی بھلائی لے کے آتی ہیں اور شام کے وقت بھی بھلائی لے کے آتی ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک حدیث روایت کی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالرحمن بن ابوربیعہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالرحمن بن ابوربیعہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ : دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا لِي لَا أَرَى عِنْدَكِ مِنَ الْبَرَكَاتِ شَيْئًا ؟ " . فَقُلْتُ : وَأَيُّ بَرَكَاتٍ تُرِيدُ ؟ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ بَرَكَاتٍ ثَلَاثًا : الشَّاةَ ، وَالنَّخْلَةَ ، وَالنَّارَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهَا ابْنُ مَاجَهْ : " اتَّخِذِي غَنَمًا ، فَإِنَّ فِيهَا بَرَكَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي الْأَوْسَطِ طَرَفٌ مِنْهُ ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام ہانی رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( میرے گھر میں ) تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے کہ میں تمہارے پاس برکت میں سے کوئی چیز نہیں دیکھ رہا ہوں ؟ میں نے عرض کی : آپ کون سی برکات مراد لے رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تین برکات نازل کی ہیں بکری ، کھجور کا درخت اور آگ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم بکریاں رکھو ! کیونکہ ان میں برکت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے معجم صغیر میں اس کا ایک حصہ منقول ہے اس کی سند میں ایک راوی نضر بن حمید ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے معجم صغیر میں اس کا ایک حصہ منقول ہے اس کی سند میں ایک راوی نضر بن حمید ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَكْرِمُوا الْمَعْزَى ، وَامْسَحُوا رُغَامَهَا ، فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بکری کی عزت افزائی کرو اور اس کے ناک پر ہاتھ پھیرو کیونکہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - فِيمَا أَحْسَبُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَحَسِنُوا إِلَى الْمَاعِزِ ، وَأَمِيطُوا عَنْهَا الْأَذَى ، فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَعَلَّهُ بِسَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَلَعَلَّهُ الْوَرَّاقُ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْوَرَّاقَ فَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میرا خیال ہے ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بکریوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ان سے گندگی کو دور کرو کیونکہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے سعید بن محمد کے حوالے سے اسے ” معلول“ قرار دیا ہے شاید یہ وراق ہے اگر تو یہ وراق ہے ، تو پھر وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت نقل کی ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میرا خیال ہے ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بکریوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ان سے گندگی کو دور کرو کیونکہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے سعید بن محمد کے حوالے سے اسے ” معلول“ قرار دیا ہے شاید یہ وراق ہے اگر تو یہ وراق ہے ، تو پھر وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " السَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الشَّاءِ وَالْبَقَرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ؛ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بکریوں اور گائے والوں میں سکینت پائی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ قَوْمٍ فِي بَيْتِهِمْ - أَوْ عِنْدَهُمْ - شَاةٌ إِلَّا قُدِّسُوا كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ - أَوْ بُورِكَ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ - " . يَعْنِي شَاةَ لَبَنٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مَرْفُوعًا ، وَمَوْقُوفًا ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَلْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن حنفیہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” جس بھی قوم کے گھروں میں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کے پاس بکری ہو ، تو انہیں روزانہ دو مرتبہ پاکیزگی عطا کی جاتی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو مرتبہ ان پر برکت نازل کی جاتی ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) آپ کی مراد بکری کا دودھ تھا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ” مرفوع“ اور ” موقوف “ ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن سلمان ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ” مرفوع“ اور ” موقوف “ ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن سلمان ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَوْصُوا بِالْمَعْزَى خَيْرًا ، فَإِنَّهَا مَالٌ رَقِيقٌ ، وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ ، وَأَحَبُّ الْمَالِ إِلَى اللَّهِ الضَّأْنُ ، وَعَلَيْكُمْ بِالْبَيَاضِ ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ بَيْضَاءَ فَلْيَلْبَسْهُ أَحْيَاؤُكُمْ ، وَكَفِّنُوا فِيهِ مَوْتَاكُمْ ، وَإِنَّ دَمَ الشَّاةِ الْبَيْضَاءِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ دَمِ السَّوْدَاوَيْنِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُوَ دَاوُدَ ، وَغَيْرُهُ طَرَفًا مِنْهُ فِي لِبَاسِ الْأَبْيَضِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَمْزَةُ النَّصِيبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بکری کے بارے میں بھلائی کی تلقین قبول کرو کیونکہ یہ ہلکا مال ہے اور یہ جنت میں ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ مال بھیڑ ہے اور تم پر سفید رنگ استعمال کرنا لازم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو سفید بنایا ہے تمہارے زندہ افراد بھی یہ رنگ پہنیں اور تم اپنے مردوں کو سفید رنگ میں کفن دو اور سفید بکری کا خون اللہ تعالیٰ کے نزدیک دو سیاہ بکریوں کے خون سے زیادہ عظمت والا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، جو سفید لباس کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر مں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حمزہ نصیبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر مں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حمزہ نصیبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَتْقَاهُ ! مَا أَتْقَاهُ ! مَا أَتْقَاهُ ؛ رَاعِي غَنَمٍ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ يُقِيمُ [ فِيهَا ] الصَّلَاةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ کتنا پرہیز گار ہے وہ کتنا پرہیز گار ہے وہ کتنا پرہیز گار ہے ، جو بکریوں کا چرواہا ہو اور کسی پہاڑ کی چوٹی پر موجود ہو اور وہاں نماز قائم کرتا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالْغَنَمِ ، فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ فَصَلُّوا فِي مُرَاحِهَا وَامْسَحُوا رُغَامَهَا " . قُلْتُ : مَا الرُّغَامُ ؟ قَالَ : " الْمُخَاطُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ صُبَيْحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم پر بکریاں رکھنا لازم ہے کیونکہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہیں ؟ تم ان کے باڑے میں نماز ادا کر لو اور ان کے ناک پر ہاتھ پھیر ! راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : رغام سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : ناک“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے سبیح کی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے سبیح کی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَاعِدَةَ أَخِي عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَسِرْ بِهَا عَنِ الْمَدِينَةِ ، فَإِنَّ الْمَدِينَةَ أَقَلُّ أَرْضِ اللَّهِ مَطَرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ساعدہ رضی اللہ عنہ جو سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جس شخص کے پاس بکریاں ہوں وہ انہیں لے کے مدینہ سے ( نواحی علاقے ) کی طرف چلا جائے ، کیونکہ مدینہ ، بارش کے حوالے سے سب سے کم ( بارش والی ) اللہ کی زمین ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : الْغَنَمُ بَرَكَةٌ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بکریاں برکت ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن عبداللہ رازی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن عبداللہ رازی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔