حدیث نمبر: 6252
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ : دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا لِي لَا أَرَى عِنْدَكِ مِنَ الْبَرَكَاتِ شَيْئًا ؟ " . فَقُلْتُ : وَأَيُّ بَرَكَاتٍ تُرِيدُ ؟ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ بَرَكَاتٍ ثَلَاثًا : الشَّاةَ ، وَالنَّخْلَةَ ، وَالنَّارَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهَا ابْنُ مَاجَهْ : " اتَّخِذِي غَنَمًا ، فَإِنَّ فِيهَا بَرَكَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي الْأَوْسَطِ طَرَفٌ مِنْهُ ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیده ام ہانی رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( میرے گھر میں ) تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے کہ میں تمہارے پاس برکت میں سے کوئی چیز نہیں دیکھ رہا ہوں ؟ میں نے عرض کی : آپ کون سی برکات مراد لے رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تین برکات نازل کی ہیں بکری ، کھجور کا درخت اور آگ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم بکریاں رکھو ! کیونکہ ان میں برکت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے معجم صغیر میں اس کا ایک حصہ منقول ہے اس کی سند میں ایک راوی نضر بن حمید ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6252
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (435/24 و 436)»