مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُتَّخَذُ مِنَ الدَّوَابِّ . باب: اس چیز کا بیان کہ کون سے جانور رکھے جائیں ؟
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ ، وَالْغَنَمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ ، وَالسَّكِينَةُ ، وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بُعِثَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ ، وَبُعِثْتُ أَنَا ، وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونٹوں کے مالکان اور بکریوں کے مالکان نے باہمی طور پر فخر کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اونٹوں کے مالکان میں فخر اور تکبر ہوتا ہے اور بکریوں کے مالکان میں سکینت اور وقار ہوتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تھا وہ اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور جب مجھے معبوث کیا گیا تو اس وقت میں بھی اپنے اہل خانہ کی بکریاں ” جیا “ کے مقام پر چرایا کرتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔