کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حج قران اور دیگر حجوں کا بیان ، اور نبی اکرم ﷺ کے حج کا بیان
عَنِ الْهِرْمَاسِ قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ أَبِي ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : " لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَاتِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ہرماس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے پیچھے سواری پر موجود تھا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اونٹ پر سوار تھے ، اور آپ یہ کہہ رہے تھے : میں حج اور عمرہ ایک ساتھ کرنے کے لئے حاضر ہوں ۔
یہ روایت عبداللہ نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5441
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (203/22) اخرجه احمد فى المسند (485/3)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجْنَا نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً ، وَقَالَ : " لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً ، وَلَكِنْ سُقْتُ الْهَدْيَ ، وَقَرَنْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ : " وَقَرَنْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَسْمَاءُ الصَّيْقَلُ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ رَوَى عَنْهُ غَيْرَ أَبِي إِسْحَاقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ روانہ ہوئے ، ہم بلند آواز میں تلبیہ پڑھ رہے تھے ، جب ہم مکہ آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ بنا لیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا اگر وہ ( خیال ) پہلے آ جاتا ، تو میں اس عمرہ بنا لیتا ، لیکن میں کیونکہ قربانی کا جانور ساتھ لایا ہوں ، اس لئے میں نے حج اور عمرہ کو ملا لیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” میں نے حج اور عمرہ کو ملا لیا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماء صیقل میں نے ابواسحاق کے علاوہ اور کسی کو اس سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5442
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1073) اخرجه ابو يعلى فى المسند (4345) اخرجه احمد فى المسند (148/3 و266)»
وَعَنْ سُرَاقَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : وَقَرَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( فِي حُجَّةِ الْوَدَاعِ ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن تک کے لئے عمرہ ، حج میں داخل ہو گیا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج قران کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اودی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5443
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (175/4)»
وَعَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ مَوَالِيَّ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ : أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ ؟ قَالَتْ : إِنْ شِئْتَ فَاعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ ، وَإِنْ شِئْتَ فَبَعْدَ أَنْ تَحُجَّ . قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّهُمْ يَقُولُونَ : مَنْ كَانَ صَرُورَةً فَلَا يَصْلُحُ أَنْ يَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ ؟ قَالَ : فَسَأَلْتُ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ ( فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا ) ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِنَّ . قَالَ : فَقَالَتْ : نَعَمْ وَأَشْفِيكَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَهِلُّوا يَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَةٍ فِي الْحَجِّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَقَالَ : فَسَأَلْتُ صَفِيَّةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ . وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَهِلُّوا يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعمران اسلم بیان کرتے ہیں : میں اپنے آقاؤں کے ساتھ حج کے لئے گیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دریافت کیا : میں حج کرنے سے پہلے عمرہ کر لوں ۔ انہوں نے فرمایا : اگر تم چاہو ، تو حج سے پہلے عمرہ کر لو اور اگر چاہو ، تو حج کرنے کے بعد ( عمرہ ) کر لینا راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : لوگ یہ کہتے ہیں : جو شخص ” ضرورة “ ہو ، اس کے لئے درست نہیں ہے کہ حج سے پہلے عمرہ کرے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے امہات المؤمنین سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بھی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے جواب کے مطابق جواب دیا میں واپس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور انہیں امہات المؤمنین کے جواب کے بارے میں بتایا تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ٹھیک ہے میں تمہاری مزید تسلی کروا دیتی ہوں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” اے آل محمد ! حج میں عمرہ کا تلبیہ پڑھو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : میں نے ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اے محمد کی امت ! حج اور عمرے کا تلبیہ پڑھو “ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5444
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7011) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (340/23) اخرجه احمد فى المسند (297/6298)»
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ( عَنْ جَدِّهِ ) ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَرَنَ خَشْيَةَ أَنْ يُصَدَّ عَنِ الْبَيْتِ وَقَالَ : " إِنْ لَمْ يَكُنْ حَجَّةً فَعُمْرَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَى قَوْلِهِ : خَشْيَةَ أَنْ يُصَدَّ عَنِ الْبَيْتِ . وَهُوَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج قران اس اندیشے کے تحت کیا تھا کہ کہیں آپ کو بیت اللہ تک جانے سے روک نہ دیا جائے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : اگر حج نہ ہو سکا تو پھر عمرہ ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور
یہ روایت ” مرسل“ ہے اس کی سند میں ایک راوی یونس بن حارث ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) مجھے یہ نہیں معلوم کہ روایت کے ان الفاظ کا مطلب کیا ہے ” اس اندیشے کے تحت کہ آپ کو بیت اللہ سے روک دیا جائے گا “ ۔ کیونکہ یہ تو حجتہ الوداع کے موقع کی بات ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5445
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (7011)»
وَعَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : إِنَّمَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ; لِأَنَّهُ عَلِمَ أَنَّهُ لَا يَحُجُّ بَعْدَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو اکٹھا کر دیا کیونکہ آپ یہ بات جانتے تھے کہ آپ اس کے بعد حج نہیں کریں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عطاء ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5446
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1124)»
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّ بَعْدَمَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً لَمْ يَحُجَّ بَعْدَهَا : حَجَّةَ الْوَدَاعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کرنے کے بعد صرف ایک ہی حج کیا تھا اور وہ حجتہ الوداع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5447
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5049)»
وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ ، فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ : لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَأَضْرَبَ عُمَرُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَالْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُبَيٍّ وَلَا مِنْ عُمَرَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع کرنے کا ارادہ کیا ، تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سر جھکا لیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے حسن نامی راوی نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5448
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
وَعَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَعْلَمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ ؟ - يَعْنِي : مُتْعَةَ الْحَجِّ - قَالُوا : لَا . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ النَّهْيَ عَنِ الْقِرَانِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوشیخ ہنائی بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی کچھ جماعت سے کہا: کہ آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع سے منع کیا ہے ان حضرات نے جواب دیا : جی نہیں ! ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے ان کے حوالے سے حج قران کی ممانعت سے متعلق روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5449
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ سُئِلُوا عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ فِي الْمُتْعَةِ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْدُمُ فَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ تُحِلُّ ، وَإِنَّ ذَلِكَ قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ بِيَوْمٍ ، ثُمَّ تُحِلُّ بِالْحَجِّ فَتَكُونُ قَدْ جَمَعْتَ عُمْرَةً وَحَجَّةً ، أَوْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ فِي الْمُتْعَةِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَرِيكٍ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن شریک عامری بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو سنا ان حضرات سے حج تمتع میں حج سے پہلے عمرہ کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو ان حضرات نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ اللہ کے رسول کی سنت ہے تم آ کے پہلے بیت اللہ کا طواف کرو صفا و مروہ کی سعی کرو اور پھر احرام کھول دو اور پھر عرفہ کے دن سے ایک دن پہلے تم حج کا احرام باندھ لو تو اس طرح تم عمرے اور حج کو جمع کر دو گے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اللہ تعالیٰ تمہارے لئے حج اور عمرے کو جمع کر دے گا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جو حج تمتع کے بارے میں ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عبداللہ بن شریک کو امام ابوزرعہ اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5450
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5451
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ فَقَرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَسَاقَ الْهَدْيَ وَقَالَ : " مَنْ لَمْ يُقَلِّدِ الْهَدْيَ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے حج اور عمرے کو ملا دیا ( یعنی حج قران کیا ) آپ قربانی کا جانور ساتھ لائے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص نے قربانی کے جانور کے گلے میں ہار نہ ڈالا ہو ( یعنی جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو ) وہ اسے عمرہ بنا لے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5452
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1125)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فَتَمَتَّعْنَ ، وَأَمَرَ لَهُنَّ بِالْبَقَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حِطَّانُ بْنُ الْقَاسِمِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو حکم دیا تو انہوں نے حج تمتع کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ازواج کے لئے گائے قربان کرنے کا حکم دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حطان بن قاسم ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5453
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1099) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1359)»
وَعَنْ أَبِي دَاوُدَ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جِئْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَحْرَمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو غَزِيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ الْحَاكِمُ ، وَفِيهِ أَيْضًا جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَلَمْ يُسَمَّوْا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوداؤد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے جب ہم ذوالحلیفہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے آپ نے وہاں دو رکعت ادا کیں آپ نے نماز کے بعد حج اور عمرہ ایک ساتھ کرنے کا احرام باندھا ( یعنی تلبیہ پڑھنا شروع کیا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوغزیہ محمد بن موسیٰ انصاری ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے ثقہ کہا: ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ان کے نام بیان نہیں کیے گئے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5454
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " لَوْلَا أَهْدَيْتُ لَحَلَلْتُ " . وَكَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهَا : وَكَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لایا ہوتا تو میں نے بھی احرام کھول دینا تھا “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ اور حج دونوں کا تلبیہ پڑھا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” آپ نے عمرہ اور حج دونوں کا تلبیہ پڑھا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5455
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَمَنِ ، فَأَصَبْتُ مَعَهُ أَوَاقٍ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَاطِمَةُ : قَدْ نَضَحْتُ الْبَيْتَ بِنَضُوحٍ فَقَالَتْ : مَا لَكَ ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَحَلُّوا قَالَ : قُلْتُ ( لَهَا ) : إِنِّي أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَإِنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلْتُمْ ، وَلَكِنِّي ( قَدْ ) سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ " . فَقَالَ : " انْحَرْ مِنَ الْبُدْنِ سَبْعًا وَسِتِّينَ أَوْ سِتًّا وَسِتِّينَ ، ( وَأَمْسِكْ لِنَفْسِكَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ) ، وَأَمْسِكْ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بُضْعَةً " . ¤ قُلْتُ : لِلْبَرَاءِ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْقِرَانِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا امیر مقرر کیا تھا مجھے ان کے ساتھ کچھ اوقیہ ( چاندی ) ملی جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے گھر کو خوشبو سے مہکا دیا ہے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا آپ کو کیا ہوا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا ہے ، تو انہوں نے احرام کھول دیے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کے مطابق احرام باندھا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں قربانی کا جانور ساتھ لایا ہوں اور میں نے حج قران کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا مجھے بعد میں جو خیال آیا ہے اگر وہ پہلے آ جاتا تو میں بھی ویسا ہی کرتا جس طرح تم لوگوں نے کیا ہے لیکن میں قربانی کا جانور ساتھ لایا ہوں اور میں نے حج قران کرنا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم قربانی کے جانوروں میں سے سرسٹھ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) چھیاسٹھ قربان کر دینا اور اپنے لئے تینتیس یا چونتیس روک لینا اور قربانی کے ہر جانور میں سے تھوڑا سا حصہ لے لینا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا براء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں بھی ایک حدیث منقول ہے ، جو اس سیاق کے علاوہ ہے اور اس میں حج قران کا ذکر نہیں ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5456
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : لَا أَعْلَمُنَا إِلَّا خَرَجْنَا حُجَّاجًا مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ، فَلَمْ يَحِلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عُمَرُ حَتَّى طَافُوا بِالْبَيْتِ ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا وَجَدْتُهُ وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَاهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اپنے بارے میں مجھے یہ علم ہے کہ ہم حج کرنے کے لئے روانہ ہوئے تھے اور ہم حج کا تلبیہ پڑھ رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں کھولا تھا ، یہاں تک کہ انہوں نے طواف کر لیا اور صفا اور مروہ کی سعی کر لی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے اس روایت کو اسی طرح پایا ہے مجھے نہیں معلوم کہ اس کا مفہوم کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عون بن محمد بن حنفیہ ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5457
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (184)»