حدیث نمبر: 5456
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَمَنِ ، فَأَصَبْتُ مَعَهُ أَوَاقٍ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَاطِمَةُ : قَدْ نَضَحْتُ الْبَيْتَ بِنَضُوحٍ فَقَالَتْ : مَا لَكَ ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَحَلُّوا قَالَ : قُلْتُ ( لَهَا ) : إِنِّي أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَإِنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلْتُمْ ، وَلَكِنِّي ( قَدْ ) سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ " . فَقَالَ : " انْحَرْ مِنَ الْبُدْنِ سَبْعًا وَسِتِّينَ أَوْ سِتًّا وَسِتِّينَ ، ( وَأَمْسِكْ لِنَفْسِكَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ) ، وَأَمْسِكْ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بُضْعَةً " . ¤ قُلْتُ : لِلْبَرَاءِ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْقِرَانِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا امیر مقرر کیا تھا مجھے ان کے ساتھ کچھ اوقیہ ( چاندی ) ملی جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے گھر کو خوشبو سے مہکا دیا ہے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا آپ کو کیا ہوا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا ہے ، تو انہوں نے احرام کھول دیے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کے مطابق احرام باندھا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں قربانی کا جانور ساتھ لایا ہوں اور میں نے حج قران کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا مجھے بعد میں جو خیال آیا ہے اگر وہ پہلے آ جاتا تو میں بھی ویسا ہی کرتا جس طرح تم لوگوں نے کیا ہے لیکن میں قربانی کا جانور ساتھ لایا ہوں اور میں نے حج قران کرنا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم قربانی کے جانوروں میں سے سرسٹھ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) چھیاسٹھ قربان کر دینا اور اپنے لئے تینتیس یا چونتیس روک لینا اور قربانی کے ہر جانور میں سے تھوڑا سا حصہ لے لینا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا براء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں بھی ایک حدیث منقول ہے ، جو اس سیاق کے علاوہ ہے اور اس میں حج قران کا ذکر نہیں ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5456
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح