حدیث نمبر: 5450
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ سُئِلُوا عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ فِي الْمُتْعَةِ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْدُمُ فَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ تُحِلُّ ، وَإِنَّ ذَلِكَ قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ بِيَوْمٍ ، ثُمَّ تُحِلُّ بِالْحَجِّ فَتَكُونُ قَدْ جَمَعْتَ عُمْرَةً وَحَجَّةً ، أَوْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ فِي الْمُتْعَةِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَرِيكٍ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن شریک عامری بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو سنا ان حضرات سے حج تمتع میں حج سے پہلے عمرہ کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو ان حضرات نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ اللہ کے رسول کی سنت ہے تم آ کے پہلے بیت اللہ کا طواف کرو صفا و مروہ کی سعی کرو اور پھر احرام کھول دو اور پھر عرفہ کے دن سے ایک دن پہلے تم حج کا احرام باندھ لو تو اس طرح تم عمرے اور حج کو جمع کر دو گے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اللہ تعالیٰ تمہارے لئے حج اور عمرے کو جمع کر دے گا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جو حج تمتع کے بارے میں ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عبداللہ بن شریک کو امام ابوزرعہ اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5450
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن