حدیث نمبر: 5445
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ( عَنْ جَدِّهِ ) ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَرَنَ خَشْيَةَ أَنْ يُصَدَّ عَنِ الْبَيْتِ وَقَالَ : " إِنْ لَمْ يَكُنْ حَجَّةً فَعُمْرَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَى قَوْلِهِ : خَشْيَةَ أَنْ يُصَدَّ عَنِ الْبَيْتِ . وَهُوَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج قران اس اندیشے کے تحت کیا تھا کہ کہیں آپ کو بیت اللہ تک جانے سے روک نہ دیا جائے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : اگر حج نہ ہو سکا تو پھر عمرہ ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور
یہ روایت ” مرسل“ ہے اس کی سند میں ایک راوی یونس بن حارث ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) مجھے یہ نہیں معلوم کہ روایت کے ان الفاظ کا مطلب کیا ہے ” اس اندیشے کے تحت کہ آپ کو بیت اللہ سے روک دیا جائے گا “ ۔ کیونکہ یہ تو حجتہ الوداع کے موقع کی بات ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5445
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (7011)»