کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ایام تشریق اور دیگر کن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے ؟
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ أَيَّامَ مِنًى : " أَنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ . وَلَا صَوْمَ فِيهَا " . يَعْنِي أَيَّامَ التَّشْرِيقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا کہ ایام منٰی میں یہ اعلان کر دوں کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں ان میں روزہ نہیں رکھا جائے گا ۔ ہ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ان کی مراد ایام تشریق تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : " يَا سَعْدُ ، قُمْ فَأَذِّنْ بِمِنًى " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اے سعد ! تم اٹھو اور منی میں یہ اعلان کر دو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ ان تمام روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ ان تمام روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ : أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ فِي الْيَوْمِ الْأَوْسَطِ مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ، قَالَ : فَأُتِيَ بِطَعَامٍ ، فَأَتَى الْقَوْمُ وَتَنَحَّى ابْنٌ لَهُ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ : ادْنُ فَاطْعَمْ . فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ : فَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّهَا أَيَّامُ طُعْمٍ وَذِكْرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوشعثاء بیان کرتے ہیں : ایام تشریق کے درمیانے دن ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے راوی بیان کرتے ہیں : کھانا لایا گیا لوگ آگے ہوئے تو ان کے صاحبزادے پیچھے ہٹ گئے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: تم آگے ہو ، اور کھانا کھاؤ انہوں نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” یہ کھانے اور ذکر کرنے کے دن ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ يُونُسَ بْنِ شَدَّادٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا يُعْلَمُ أَسْنَدَ يُونُسُ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ . وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ; وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یونس بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے روزے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں یہ بات علم میں نہیں ہے کہ یونس نے صرف اس حدیث کے علاوہ کسی اور کی سند نقل کی ہو ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں یہ بات علم میں نہیں ہے کہ یونس نے صرف اس حدیث کے علاوہ کسی اور کی سند نقل کی ہو ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
وَعَنْ حُبَيْبَةَ بِنْتِ شَرِيقٍ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ أَبِيهَا ، فَإِذَا بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ عَلَى الْعَضْبَاءِ - رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرَحِّلُهَا فَنَادَى : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُفْطِرْ ; فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّهَا كَانَتْ مَعَ أُمِّهَا الْعَجْمَاءِ . وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
حبیبہ بنت شریق بیان کرتی ہیں : وہ اپنے والد کے ساتھ تھیں بدیل بن ورقاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی عضباء پر سوار تھے وہ اس کا پالان تیار کر رہے تھے انہوں نے پکار کر کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص نے روزہ رکھا ہوا ہے وہ روزہ ختم کر دے کیونکہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ خاتون اپنی والدہ عجماء کے ساتھ تھیں “ ۔ امام أحمد کی سند ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ خاتون اپنی والدہ عجماء کے ساتھ تھیں “ ۔ امام أحمد کی سند ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنَ السَّنَةِ : يَوْمِ الْفِطْرِ ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مِنْ طُرُقِهِ كُلِّهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سال کے چھ دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا ہے عیدالفطر کے دن عیدالاضی کے دن اور ایام تشریق کے تین دن ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور یہ اپنے تمام طرق کے حوالے سے ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور یہ اپنے تمام طرق کے حوالے سے ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنَ السَّنَةِ : يَوْمِ الْأَضْحَى ، وَيَوْمِ الْفِطْرِ ، وَأَيَّامِ التَّشْرِيقِ ، وَالْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سال کے چھ دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا ہے عیدالفطر کے دن عیدالاضحی کے دن ، ایام تشریق کے دن اور وہ دن جس کے بارے میں یہ شک ہو کہ یہ رمضان کا حصہ ہے ( یا نہیں ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ صَائِحًا يَصِيحُ : " أَنْ لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ ; فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَبِعَالٍ " . وَالْبِعَالُ : وِقَاعُ النِّسَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعلان کرنے والے کو بھیجا اس نے یہ اعلان کیا کہ تم ان دنوں میں روزہ نہ رکھو کیونکہ یہ کھانے پینے اور بعال کے دن ہیں ( راوی کہتے ہیں : ) بعال سے مراد خواتین کے ساتھ صحبت کرنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ أَيْضًا : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بُدَيْلَ بْنَ وَرْقَاءَ . ¤ وَإِسْنَادُ الْأَوَّلِ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے معجم اوسط اور معجم کبیر میں یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدیل بن ورقاء کو بھیجا تھا ۔ پہلی روایت کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ الْحَارِثِ بِنْتِ عَيَّاشٍ قَالَتْ : رَأَيْتُ بُدَيْلَ بْنَ وَرْقَاءَ عَلَى جَمَلٍ يَتْبَعُ النَّاسَ فَيُنَادِي : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ ; فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام حارث بنت عیاش رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نے سیدنا بدیل بن ورقاء رضی اللہ عنہ کو اونٹ پر دیکھا وہ لوگوں کے پاس جا کر یہ اعلان کر رہے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم ان دنوں میں روزہ نہ رکھو کیونکہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيِّ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَادِي فِي النَّاسِ بِمِنًى : " إِنَّ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معمر بن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تاکہ میں منی میں جا کر یہ اعلان کر دوں : ایام تشریق کھانے پینے کے دن ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ نَهَى عَنْ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ : تَعْجِيلِ يَوْمِ التَّرْوِيَةِ ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى ، وَالْفِطْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ آپ نے تین دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا ہے ترویہ کے دن عیدالاضحی کے دن اور عیدالفطر کے دن ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن مسلمہ ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے کہ وہ غلطی کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن مسلمہ ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے کہ وہ غلطی کرتا ہے ۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ الْأَصْبَهَانِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایام تشریق کھانے پینے کے دن ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر بن یزید اصبھانی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر بن یزید اصبھانی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أُسَامَةَ الْهُذَلِيِّ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ مِنًى رَجُلًا عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ فَنَادَى : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ ; فَلَا تَصُومُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ ہذلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منی کے دنوں میں ایک شخص کو سرخ اونٹ پر بھیجا اس نے یہ اعلان کیا : اے لوگو ! یہ کھانے پینے کے دن ہیں ( ان دنوں میں ) روزہ نہ رکھو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوحمید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوحمید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ ، وَيَوْمِ النَّحْرِ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ وَحْدَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میرے سامنے کچھ پسندیدہ افراد نے گواہی دے کر یہ بات بیان کی تھی جن میں سب سے زیادہ پسندیدہ میرے نزدیک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں ( ان حضرات نے یہ بات بیان کی تھی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور قربانی کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔