مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا نُهِيَ عَنْ صِيَامِهِ مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَغَيْرِهَا . باب: ایام تشریق اور دیگر کن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے ؟
حدیث نمبر: 5237
وَعَنْ حُبَيْبَةَ بِنْتِ شَرِيقٍ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ أَبِيهَا ، فَإِذَا بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ عَلَى الْعَضْبَاءِ - رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرَحِّلُهَا فَنَادَى : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُفْطِرْ ; فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّهَا كَانَتْ مَعَ أُمِّهَا الْعَجْمَاءِ . وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤محمد محی الدین
حبیبہ بنت شریق بیان کرتی ہیں : وہ اپنے والد کے ساتھ تھیں بدیل بن ورقاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی عضباء پر سوار تھے وہ اس کا پالان تیار کر رہے تھے انہوں نے پکار کر کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص نے روزہ رکھا ہوا ہے وہ روزہ ختم کر دے کیونکہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ خاتون اپنی والدہ عجماء کے ساتھ تھیں “ ۔ امام أحمد کی سند ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔