کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرے ، اور پھر روزہ ختم کر دے
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّهُ بَكَى فَقِيلَ لَهُ : مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ : شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْكَانِي . سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الشِّرْكُ وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُشْرِكُ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ; أَمَا إِنَّهُمْ لَا يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا حَجَرًا وَلَا وَثَنًا ، وَلَكِنْ يُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ ، وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ أَنْ يُصْبِحَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا فَتَعْرِضُ لَهُ شَهْوَةٌ مِنْ شَهَوَاتِهِ فَيَتْرُكُ صَوْمَهُ " .
قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ ; خَلَا ذِكْرِ الصَّوْمِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ ; خَلَا ذِكْرِ الصَّوْمِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک مرتبہ وہ رو پڑے ان سے دریافت کیا گیا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : ایک بات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی تھی اس نے مجھے رلا دیا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ شرک کا ہے ، اور پوشیدہ شہوت کا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ وہ سورج یا چاند یا پتھر یا بت کی عبادت نہیں کریں گے بلکہ وہ اپنے اعمال کا دکھاوا کریں گے اور خفیہ شہوت یہ ہے کہ کوئی شخص روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرے گا پھر کوئی خواہش اس کے سامنے آئے گی تو وہ اپنے روزے کو ترک کر دے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم ان کی روایت میں روزے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن زید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم ان کی روایت میں روزے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن زید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَصْبَحَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ ، فَأُهْدِيَ لَهُمَا طَعَامٌ فَأَفْطَرَتَا ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ إِحْدَاهُمَا - أَحْسَبُهُ قَالَ حَفْصَةَ - قَالَ : " اقْضِيَا يَوْمًا مَكَانَهُ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ; ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : شَيْخٌ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ; ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : شَيْخٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے روزے کی حالت میں صبح کی ، ان دونوں کو تحفے میں کھانا بھیجا گیا تو ان دونوں نے روزہ ختم کر دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان میں سے ایک نے ( راوی کہتے ہیں : ) میرا خیال ہے انہوں نے سیدہ حفصہ کا نام لیا تھا ، آپ سے ( اس بارے میں ) دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم دونوں اس کی جگہ ایک دن ( کے روزے ) کی قضاء کر لو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن ولید ہے ، جسے ائمہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، اور ابوحاتم کہتے ہیں : وہ شیخ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن ولید ہے ، جسے ائمہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، اور ابوحاتم کہتے ہیں : وہ شیخ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أُهْدِيَتْ لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ هَدِيَّةٌ وَهُمَا صَائِمَتَانِ ، فَأَكَلَتَا مِنْهَا ، فَذَكَرَتَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اقْضِيَا يَوْمًا مَكَانَهُ ، وَلَا تَعُودَا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَكِّيُّ ، وَقَدْ ضُعِّفَ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَكِّيُّ ، وَقَدْ ضُعِّفَ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو کوئی تحفہ بھیجا گیا ، ان دونوں نے روزہ رکھا ہوا تھا ، ان دونوں نے اس میں سے کھا لیا ، پھر ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” تم دونوں اس کی جگہ ایک دن ( کے روزے ) کی قضاء کر لو ، اور دوبارہ ایسا نہ کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوسلمہ مکی ہے ، اور اسے اس حدیث کی وجہ سے ” ضعیف “ قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوسلمہ مکی ہے ، اور اسے اس حدیث کی وجہ سے ” ضعیف “ قرار دیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَأَنَا صَائِمَةٌ فَأَتَيْتُهُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ وَقَالَ : " اشْرَبِي " . قُلْتُ : إِنِّي صَائِمَةٌ . قَالَ : " أَصَوْمَ قَضَاءٍ ؟ " . قُلْتُ : لَا . قَالَ : " فَاشْرَبِي " . فَشَرِبْتُ .
قُلْتُ : لَهَا عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ .
قُلْتُ : لَهَا عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ .
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن میرے ہاں تشریف لائے میں نے روزہ رکھا ہوا تھا میں آپ کی خدمت میں دودھ کا پیالہ لے کے آئی آپ نے اسے پی لیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم بھی پی لو میں نے عرض کی : میں نے روزہ رکھا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا یہ قضاء کا روزہ ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو پھر تم پی لو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث امام ترمذی نے بھی نقل کی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا فِي غَيْرِ رَمَضَانَ فَأَصَابَهُ - أَحْسَبُهُ : قَيْءٌ - فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ أَفْطَرَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَكُنْ صَائِمًا ؟ قَالَ : " بَلَى ; وَلَكِنِّي قِئْتُ فَأَفْطَرْتُ " . فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " هَذَا الْيَوْمُ مَكَانَ إِفْطَارِي بِالْأَمْسِ " .
قُلْتُ : لِثَوْبَانَ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ : أَنَّهُ قَاءَ فَأَفْطَرَ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ الْحِمْصِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
قُلْتُ : لِثَوْبَانَ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ : أَنَّهُ قَاءَ فَأَفْطَرَ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ الْحِمْصِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا یہ رمضان کے علاوہ کی بات ہے آپ کو قے آ گئی آپ نے وضو کیا ، اور روزہ ختم کر دیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ۔ مجھے قے آ گئی تو میں نے روزہ ختم کر دیا راوی کہتے ہیں : اگلے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : گزشتہ دن جو میں نے روزہ ختم کر دیا تھا ، تو آج اس کی جگہ ( میں نے روزہ رکھا ہوا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت امام ابوداؤد اور دیگر محدثین نے نقل کی ہے ۔ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تھی تو روزہ ختم کر دیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عتبہ بن سکن حمصی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عتبہ بن سکن حمصی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ كَانَ يُصْبِحُ صَائِمًا مُتَطَوِّعًا ، ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ ، فَيَقُولُ : هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نفلی روزہ رکھا ہوا تھا پھر وہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور انہوں نے دریافت کیا : تمہارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔