مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُصْبِحُ صَائِمًا ثُمَّ يُفْطِرُ . باب: جو شخص روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرے ، اور پھر روزہ ختم کر دے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَصْبَحَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ ، فَأُهْدِيَ لَهُمَا طَعَامٌ فَأَفْطَرَتَا ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ إِحْدَاهُمَا - أَحْسَبُهُ قَالَ حَفْصَةَ - قَالَ : " اقْضِيَا يَوْمًا مَكَانَهُ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ; ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : شَيْخٌ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے روزے کی حالت میں صبح کی ، ان دونوں کو تحفے میں کھانا بھیجا گیا تو ان دونوں نے روزہ ختم کر دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان میں سے ایک نے ( راوی کہتے ہیں : ) میرا خیال ہے انہوں نے سیدہ حفصہ کا نام لیا تھا ، آپ سے ( اس بارے میں ) دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم دونوں اس کی جگہ ایک دن ( کے روزے ) کی قضاء کر لو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن ولید ہے ، جسے ائمہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، اور ابوحاتم کہتے ہیں : وہ شیخ ہے ۔