مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُصْبِحُ صَائِمًا ثُمَّ يُفْطِرُ . باب: جو شخص روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرے ، اور پھر روزہ ختم کر دے
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَأَنَا صَائِمَةٌ فَأَتَيْتُهُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ وَقَالَ : " اشْرَبِي " . قُلْتُ : إِنِّي صَائِمَةٌ . قَالَ : " أَصَوْمَ قَضَاءٍ ؟ " . قُلْتُ : لَا . قَالَ : " فَاشْرَبِي " . فَشَرِبْتُ . ¤ قُلْتُ : لَهَا عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن میرے ہاں تشریف لائے میں نے روزہ رکھا ہوا تھا میں آپ کی خدمت میں دودھ کا پیالہ لے کے آئی آپ نے اسے پی لیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم بھی پی لو میں نے عرض کی : میں نے روزہ رکھا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا یہ قضاء کا روزہ ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو پھر تم پی لو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث امام ترمذی نے بھی نقل کی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔