مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُصْبِحُ صَائِمًا ثُمَّ يُفْطِرُ . باب: جو شخص روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرے ، اور پھر روزہ ختم کر دے
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا فِي غَيْرِ رَمَضَانَ فَأَصَابَهُ - أَحْسَبُهُ : قَيْءٌ - فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ أَفْطَرَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَكُنْ صَائِمًا ؟ قَالَ : " بَلَى ; وَلَكِنِّي قِئْتُ فَأَفْطَرْتُ " . فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " هَذَا الْيَوْمُ مَكَانَ إِفْطَارِي بِالْأَمْسِ " . ¤ قُلْتُ : لِثَوْبَانَ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ : أَنَّهُ قَاءَ فَأَفْطَرَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ الْحِمْصِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا یہ رمضان کے علاوہ کی بات ہے آپ کو قے آ گئی آپ نے وضو کیا ، اور روزہ ختم کر دیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ۔ مجھے قے آ گئی تو میں نے روزہ ختم کر دیا راوی کہتے ہیں : اگلے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : گزشتہ دن جو میں نے روزہ ختم کر دیا تھا ، تو آج اس کی جگہ ( میں نے روزہ رکھا ہوا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت امام ابوداؤد اور دیگر محدثین نے نقل کی ہے ۔ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تھی تو روزہ ختم کر دیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عتبہ بن سکن حمصی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔