حدیث نمبر: 5231
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ كَانَ يُصْبِحُ صَائِمًا مُتَطَوِّعًا ، ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ ، فَيَقُولُ : هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نفلی روزہ رکھا ہوا تھا پھر وہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور انہوں نے دریافت کیا : تمہارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5231
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1065)»