مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُصْبِحُ صَائِمًا ثُمَّ يُفْطِرُ . باب: جو شخص روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرے ، اور پھر روزہ ختم کر دے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أُهْدِيَتْ لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ هَدِيَّةٌ وَهُمَا صَائِمَتَانِ ، فَأَكَلَتَا مِنْهَا ، فَذَكَرَتَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اقْضِيَا يَوْمًا مَكَانَهُ ، وَلَا تَعُودَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَكِّيُّ ، وَقَدْ ضُعِّفَ بِهَذَا الْحَدِيثِ . ¤سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک مرتبہ وہ رو پڑے ان سے دریافت کیا گیا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : ایک بات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی تھی اس نے مجھے رلا دیا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ شرک کا ہے ، اور پوشیدہ شہوت کا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ وہ سورج یا چاند یا پتھر یا بت کی عبادت نہیں کریں گے بلکہ وہ اپنے اعمال کا دکھاوا کریں گے اور خفیہ شہوت یہ ہے کہ کوئی شخص روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرے گا پھر کوئی خواہش اس کے سامنے آئے گی تو وہ اپنے روزے کو ترک کر دے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم ان کی روایت میں روزے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن زید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔