حدیث نمبر: 5226
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّهُ بَكَى فَقِيلَ لَهُ : مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ : شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْكَانِي . سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الشِّرْكُ وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُشْرِكُ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ; أَمَا إِنَّهُمْ لَا يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا حَجَرًا وَلَا وَثَنًا ، وَلَكِنْ يُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ ، وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ أَنْ يُصْبِحَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا فَتَعْرِضُ لَهُ شَهْوَةٌ مِنْ شَهَوَاتِهِ فَيَتْرُكُ صَوْمَهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ ; خَلَا ذِكْرِ الصَّوْمِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب کوئی شخص سفر میں ان کے ساتھ جانا چاہتا تھا ، تو وہ اس پر یہ شرط عائد کر دیتے تھے کہ تم ہمارے ساتھ کسی کمزور اونٹ پر نہیں رہو گے اور اذان کے بارے میں ہمارے ساتھ جھگڑا نہیں کرو گے اور ہماری اجازت کے بغیر روزہ نہیں رکھو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5226
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (124/4)»