کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: روزہ دار کے لئے پچھنے لگوانے کا جائز ہونا
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4995
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (93/20) اخرجه البزار فى المسند (1014)»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : مَرَّ بِنَا أَبُو طَيْبَةَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : بَعْدَ الْعَصْرِ فِي رَمَضَانَ - فَقَالَ : حَجَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ابوطیبہ ہمارے پاس سے گزرے راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : رمضان کے مہینے میں عصر کے بعد ہمارے پاس سے گزرے تو انہوں نے بتایا : میں نے اللہ کے رسول کو پچھنے لگائے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4996
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1011)»
قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَجَّامٍ يُكَنَّى أَبَا طَيْبَةَ فَحَجَّمَهُ بَعْدَ الْعَصْرِ فِي رَمَضَانَ . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِمَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ روایت نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے والے کو پیغام بھیجا جس کی کنیت ابوطیبہ تھی اس نے رمضان کے مہینے میں عصر کی نماز کے بعد آپ کو پچھنے لگائے ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4997
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : رُخِّصَ فِي الْقُبْلَةِ وَالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ . وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے دار کو پچھنے لگوانے کی رخصت دی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” روزہ دار کو بوسہ لینے اور پچھنے لگوانے کی رخصت دی گئی ہے “ ۔ امام بزار کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4998
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فِي رَمَضَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں پچھنے لگوائے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4999
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : مَرَّ بِنَا أَبُو طَيْبَةَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ . فَقُلْنَا : مِنْ أَيْنَ جِئْتَ ؟ قَالَ : حَجَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ; وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوطیبہ رضی اللہ عنہ رمضان کے مہینے میں ہمارے پاس سے گزرے ہم نے کہا: آپ کہاں سے آ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگوائے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5000
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (383/22) اخرجه ابو يعلي فى المسند (4225)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ ، وَهُوَ صَائِمٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5001
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ صَائِمٌ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کا اجر عطا کیا اگر یہ حرام ہوتا تو آپ اسے عطا نہ کرتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلم بن سالم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5002
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13399)»
وَعَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ بَعْدَمَا قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ طَرِيفٌ أَبُو سُفْيَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بات ارشاد فرمانے : ” پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا “ کے بعد خود پچھنے لگوائے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طریف ابوسفیان ہے ، اور وہ ضعیف ہے اسے ابن عدی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5003
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُفَطِّرْنَ الصَّائِمَ : الْقَيْءُ وَالْحِجَامَةُ وَالِاحْتِلَامُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَصَحَّحَ أَحَدَهُمَا ، وَظَاهِرُهُ الصِّحَّةُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں روزہ دار کا روزہ ختم نہیں کرتی ہیں قے کرنا ، پچھنے لگوانا اور احتلام ہو جانا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ انہوں نے ان دونوں میں سے ایک کو صحیح قرار دیا ہے ، اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5004
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1016 و 1017)»
وَعَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يَمْنَعْنَ الصَّائِمَ : الْحِجَامَةُ وَالْقَيْءُ وَالِاحْتِلَامُ ، وَلَا يَتَقَيَّأُ الصَّائِمُ مُتَعَمِّدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں روزہ دار کے لئے رکاوٹ نہیں بنتی ہیں پچھنے لگوانا ، قے کرنا اور احتلام ہو جانا ، البتہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر قے کرے تو اس کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5005
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا, قال الهيثمي: ررواه الطبراني في الكبير، وفيه إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى، وهو متروك (3/172)
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1438)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَاحْتَلَمَ أَوِ احْتَجَمَ أَوْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے معجم اوسط میں
یہ روایت منقول ہے : ” تین چیزیں روزے دار کا روزہ ختم نہیں کرتی ہیں “ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔ ان دونوں کی سند ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5006
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَاحْتَلَمَ أَوِ احْتَجَمَ أَوْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرے پھر اسے احتلام ہو جائے یا وہ پچھنے لگوا لے یا اسے قے آ جائے تو اس پر قضاء لازم نہیں ہو گی ، اور جو شخص جان بوجھ کر قے کر دے تو اس پر قضاء لازم ہو گی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5007
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1591)»