کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: روزہ دار شخص کا پچھنے لگوانا
حدیث نمبر: 4980
عَنْ بِلَالٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَشَهْرٌ لَمْ يَلْقَ بِلَالًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا“ ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ شہر نامی راوی نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4980
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1122) اخرجه احمد فى المسند (12/6) اخرجه البزار فى المسند (1008)»
حدیث نمبر: 4981
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمُسْتَحْجِمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَالْحَسَنُ مُدَلِّسٌ ، وَقِيلَ : لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُسَامَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور حسن نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ایک قول کے مطابق اس نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4981
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (210/5) اخرجه البزار فى المسند (997)»
حدیث نمبر: 4982
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ : مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَحْتَجِمُ فِي ثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں اس وقت پچھنے لگوا رہا تھا یہ رمضان کے مہینے کی اٹھارہ تاریخ کی بات ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کیا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4982
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (233/20) اخرجه احمد فى المسند (480,474/3)»
حدیث نمبر: 4983
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَحْتَجِمُ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں اس وقت پچھنے لگوا رہا تھا یہ رمضان کے مہینے کی اٹھارہ تاریخ کی بات ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4983
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (210/20) اخرجه البزار فى المسند (1001 و 1002)»
حدیث نمبر: 4984
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمُسْتَحْجِمُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ عَنْ عَائِشَةَ وَحْدَهَا ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں : آپ نے ارشاد فرمایا : ” پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار نے صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4984
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (5849) اخرجه البزار فى المسند (100,999)»
حدیث نمبر: 4985
وَعَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ . ¤ وَحَدِيثُ عَائِشَةَ فِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ; وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4985
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4986
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ عَنْ مَطَرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : سلام ابومنذر نامی راوی مطر کے حوالے سے اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4986
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (995)»
حدیث نمبر: 4987
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ مُوَثَّقُونَ ; إِلَّا أَنَّ فِطْرَ بْنَ خَلِيفَةَ فِيهِ كَلَامٌ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال کی توثیق کی گئی ہے صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4987
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11286) اخرجه البزار فى المسند (998)»
حدیث نمبر: 4988
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَعْلَى بْنُ عَبَّادٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعلی بن عباد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4988
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير .(6909) اخرجه البزار فى المسند (1003)»
حدیث نمبر: 4989
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، وَهُوَ يَحْتَجِمُ لَيْلًا فَقَالَ : لَوْ كَانَ نَهَارًا ؟ فَقَالَ : تَأْمُرُنِي أَنْ أُهْرِيقَ دَمِي وَأَنَا صَائِمٌ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ; خَلَا شَيْخِ الْبَزَّارِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ; لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ، وہ سیدنا ابوموسیٰ کے پاس آئے جو رات کے وقت پچھنے لگوا رہے تھے تو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر دن کے وقت لگوا لیتے تو مناسب تھا سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مجھے یہ کہہ رہے ہو کہ میں دن کے وقت خون بہاؤں جبکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہو جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف امام بزار کے استاد کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں کسی نے کلام نہیں کیا ہے ، ( لیکن وہ صیح کے رجال میں سے نہیں ہے ) ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4989
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1004 و1095 و1006)»
حدیث نمبر: 4990
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَالِكُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَضَعَّفُوهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مالک بن سلیمان ہے محدثین نے اس حدیث کے حوالے سے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4990
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4991
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجَفْرِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ; وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جعفری ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4991
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4992
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا طَيْبَةَ فَوَضَعَ الْمَحَاجِمَ مَعَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ ، ثُمَّ أَمَرَهُ مَعَ إِفْطَارِ الصَّائِمِ فَحَجَمَ ثُمَّ سَأَلَهُ : " كَمْ خَرَاجُكَ ؟ " . قَالَ : صَاعَيْنِ . فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو یہ حکم دیا کہ وہ سورج غروب ہونے کے وقت پچھنے لگانے کے آلات رکھ دے پھر آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ افطار کرنے والے کے ساتھ افطاری کر لے پھر اس نے پچھنے لگوائے پھر آپ نے اس سے دریافت کیا : تمہار اخراج کتنا ہے ؟ اس نے جواب دیا : دو صاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع معاف کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4992
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 4993
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : إِنَّمَا كُرِهَتِ الْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : روزے دار کے پچھنے لگوانے کو اس لئے مکروہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس سے کمزوری آتی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4993
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1009 و1010)»
حدیث نمبر: 4994
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ صَائِمًا مُحْرِمًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ فَلِذَلِكَ كُرِهَتِ الْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ : أَنَّهُ احْتَجَمَ ، وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ [ الْ ]كَرَاهَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں احرام باندھے ہوئے پچھنے لگوائے تھے ۔ آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی تو اس لئے روزے دار شخص کے لئے پچھنے لگوانے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے تھے ۔ آپ اس وقت روزہ دار تھے ، اور احرام باندھے ہوئے تھے اس روایت میں انہوں نے اس کے مکروہ ہونے کو ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن باب ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔ امام أحمد نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4994
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11320 و 11699 و12086) اخرجه ابو يعلي فى المسند (2449 ) اخرجه احمد فى المسند (2228 و3547) اخرجه البزار فى المسند (1015)»