مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ . باب: روزہ دار کے لئے پچھنے لگوانے کا جائز ہونا
حدیث نمبر: 5007
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَاحْتَلَمَ أَوِ احْتَجَمَ أَوْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرے پھر اسے احتلام ہو جائے یا وہ پچھنے لگوا لے یا اسے قے آ جائے تو اس پر قضاء لازم نہیں ہو گی ، اور جو شخص جان بوجھ کر قے کر دے تو اس پر قضاء لازم ہو گی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔