کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: روزہ دار شخص کا غیبت کرنا
حدیث نمبر: 5008
عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ امْرَأَتَيْنِ صَامَتَا وَأَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَاهُنَا امْرَأَتَيْنِ قَدْ صَامَتَا ، وَإِنَّهُمَا قَدْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا مِنَ الْعَطَشِ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ أَوْ سَكَتَ . ثُمَّ عَادَ - وَأُرَاهُ قَالَ : بِالْهَاجِرَةِ - قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّهُمَا وَاللَّهِ قَدْ مَاتَتَا ، أَوْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا ؟ قَالَ : " ادْعُهُمَا " . قَالَ : فَجَاءَتَا . قَالَ : فَجِيءَ بِقَدَحٍ أَوْ عُسٍّ . فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا : " قِيئِي " . فَقَاءَتْ قَيْحًا وَدَمًا وَصَدِيدًا أَوْ لَحْمًا ، حَتَّى مَلَأَتْ نِصْفَ الْقَدَحِ . ثُمَّ قَالَ لِلْأُخْرَى : " قِيئِي " . فَقَاءَتْ مِنْ قَيْحٍ وَدَمٍ وَصَدِيدٍ وَلَحْمٍ عَبِيطٍ وَغَيْرِهِ ، حَتَّى مَلَأَتِ الْقَدَحَ . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَاتَيْنِ صَامَتَا عَمَّا أَحَلَّ اللَّهُ لَهُمَا ، وَأَفْطَرَتَا عَلَى مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا ، جَلَسَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى ، فَجَعَلَتَا تَأْكُلَانِ لُحُومَ النَّاسِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبید رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : دو خواتین نے روزہ رکھا ہوا تھا ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہاں دو خواتین نے روزہ رکھا ہوا ہے ، اور پیاس کی وجہ سے وہ دونوں مرنے کے قریب ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا یا آپ خاموش رہے اس نے اپنی بات دہرائی راوی بیان کرتے ہیں : روایت میں یہ الفاظ ہیں : کہ یہ دن چڑھے کی بات ہے اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اللہ کی قسم یہ دونوں مر جائیں گی ، یا دونوں مرنے کے قریب ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں کو بلا کے لاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ دونوں خواتین آئیں پھر ایک پیالہ یا ایک برتن لایا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک خاتون سے فرمایا تم قے کرو اس نے پیپ ، خون اور گوشت کی قے کی یہاں تک کہ نصف پیالہ بھر گیا پھر آپ نے دوسری خاتون سے فرمایا کہ تم بھی قے کرو تو اس نے بھی خون ، پیپ اور گوشت کی قے کی یہاں تک کہ پیالہ بھر گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان دونوں نے اس چیز کے حوالے سے تو روزہ رکھا ہوا تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے لئے حلال قرار دی تھی اور انہوں نے اس چیز کے حوالے سے روزہ نہیں رکھا تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام قرار دی ہے ، ان میں سے ایک دوسری کے پاس آ کے بیٹھی اور ان دونوں نے لوگوں کا گوشت کھانا شروع کر دیا ( یعنی غیبت کرنا شروع کر دی ) ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5008
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1576) اخرجه احمد فى المسند (431/5)»
حدیث نمبر: 5009
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّهُمْ أُمِرُوا بِصِيَامٍ قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْضَ النَّهَارِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلَانَةً وَفُلَانَةً قَدْ بَلَغَتَا الْجَهْدَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا راوی بیان کرتے ہیں : دن کے کسی حصے میں ایک شخص آیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں عورت اور فلاں عورت انتہائی مشقت کا شکار ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5009
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5010
وَفِي رِوَايَةٍ : حَدَّثَنِي سَعْدٌ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ أُمِرُوا بِصِيَامٍ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَى أَبُو يَعْلَى نَحْوَهُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی کہ لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ۔ امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5010
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5011
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَدَعِ الْخَنَا وَالْكَذِبَ فَلَا حَاجَةَ لِلَّهِ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص فحش کلامی اور جھوٹ کو نہیں چھوڑتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں ہے کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5011
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (472)»
حدیث نمبر: 5012
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصِّيَامُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا " . قِيلَ : وَبِمَ يَخْرِقُهُ ؟ قَالَ : " بِكَذِبٍ أَوْ غِيبَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” روزہ ڈھال ہے ، جب تک آدمی اس کو پھاڑ نہ دے “ ۔ عرض کی گئی : اس کو پھاڑے گا کیسے ؟ آپ نے فرمایا : جھوٹ بول کر ، یا غیبت کر کے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5012
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف