کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا کرنا ، جس کے ذمہ قرض ہو
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ ، فَغَسَّلْنَاهُ ، وَكَفَّنَّاهُ ، وَحَنَّطْنَاهُ ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا : تُصَلِّي عَلَيْهِ ؟ فَخَطَا خُطْوَةً ، ثُمَّ قَالَ : " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " ، قُلْتُ : دِينَارَانِ ، فَانْصَرَفَ ، فَتَحَمَّلَهَا أَبُو قَتَادَةَ ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : الدِّينَارَانِ عَلَيَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَوْفَى اللَّهُ حَقَّ الْغَرِيمِ ، وَبَرِئَ مِنْهَا الْمَيِّتُ " ، قَالَ : نَعَمْ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ : " مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ ؟ " ، قُلْتُ : إِنَّمَا مَاتَ مِنَ الْأَمْسِ ، قَالَ : فَعَادَ إِلَيْهِ مِنَ الْغَدِ قَالَ : قَدْ قَضَيْتُهُمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْآنَ بَرُدَتْ عَلَيْهِ جِلْدَتُهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا انتقال ہو گیا ہم نے اسے غسل دیا اسے کفن پہنایا اسے خوشبو لگائی پھر ہم اس کی میت لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں ہم نے عرض کی : آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قدم چلے پھر آپ نے دریافت کیا : کیا اس کے ذمہ قرض ہے ؟ میں نے عرض کی : دو دینار ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑ گئے تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ادائیگی اپنے ذمہ لی ہم دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : دونوں دیناروں کی ادائیگی میرے ذمہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ قرض کے خواہ کے حق کو ادا کر دے گا ، اور میت اس سے آزاد ہو جائے گی سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن صاحب کی نماز جنازہ پڑھائی اس کے ایک دن بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : دو دیناروں کا کیا بنا میں نے عرض کی : اس شخص کا گزشتہ دن تو انتقال ہوا ہے راوی کہتے ہیں : پھر وہ اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : میں نے ان دونوں کو ادا کر دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اب اس کی جلد اس پر ٹھنڈی ہوئی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4208
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ عِيسَى بْنِ صَدَقَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْيَشْكُرِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عِيسَى عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا حَدِيثًا يَنْفَعُنَا اللَّهُ بِهِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَمُوتَ وَلَا دَيْنَ عَلَيْهِ فَلْيَفْعَلْ ; فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَالَ : " لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ حَتَّى تَضْمَنُوا دَيْنَهُ ، فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ تَنْفَعُهُ " ، فَلَمْ يَضْمَنُوا دَيْنَهُ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " إِنَّهُ مُرْتَهَنٌ فِي قَبْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَعِيسَى وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
عیسیٰ بن صدقہ بن عباد یشکری بیان کرتے ہیں : میں ابوعیسی کے ہمراہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجیئے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں نفع عطا کرے تو میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ اس حالت میں میرے کہ اس کے ذمہ کوئی قرض نہ ہو ، تو اسے ایسا کرنا چاہیے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے پاس ایک شخص کا جنازہ لایا گیا جس کے ذمہ قرض تھا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : میں اس کی نماز جنازہ اس وقت تک نہیں پڑھاؤں گا جب تک تم اس کے قرض کا ذمہ نہیں لے لیتے پھر میرا نماز جنازہ ادا کرنا اسے فائدہ دے گا لوگوں نے اس کے قرض کو اپنے ذمہ نہیں لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ بھی ادا نہیں کی آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اپنی قبر میں رہن کے طور پر ( پابند ) رہے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ عیسیٰ نامی راوی کو ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر لوگوں نے انہیں ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4209
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (4244)»
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا قَالَ : " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ نَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى مَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَقَالَ : إِنَّ صَاحِبَ الدَّيْنِ مُرْتَهَنَّ فِي قَبْرِهِ حَتَّى يُقْضَى دَيْنُهُ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں آپ نے دریافت کیا : کیا اس کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے کہ میں کسی ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا کروں جس کے ذمہ قرض ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مقروض شخص اپنی قبر میں رہن رکھا رہتا ہے ، جب تک اس کی طرف سے اس کے قرض کو ادا نہیں کر دیا جاتا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4210
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3477)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِجِنَازَةٍ ، فَقَامَ يُصَلِّي عَلَيْهَا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْطَلِقُوا بِصَاحِبِكُمْ فَصَلُّوا عَلَيْهِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : عَلَيَّ دِينُهُ فَصَلِّ عَلَيْهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے اٹھنے لگے تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے ذمہ قرض ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کو لے جاؤ اور اس کی نماز جنازہ ادا کر لو ایک صاحب نے عرض کی : اس کا قرض میرے ذمہ ہے آپ اس کی نماز جنازہ ادا کر لیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4211
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُتِيَ بِرَجُلٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا يَنْفَعُكُمْ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى رَجُلٍ رُوحُهُ مُرْتَهَنٌّ فِي قَبْرِهِ ، لَا تَصْعَدُ رُوحُهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَلَوْ ضَمِنَ رَجُلٌ دَيْنَهُ قُمْتُ فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِ ، فَإِنَّ صَلَاتِي تَنْفَعُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أُمَيَّةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک شخص ( کی میت ) لائی گئی تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے ساتھی کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں اس کا کیا فائدہ ہو گا کہ میں ایک ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھاؤں کہ جس کی روح اس کی قبر میں رہن کے طور پر رکھی ہوئی ہو اس کی روح آسمان کی طرف بلند نہیں ہو گی ، اگر کوئی شخص اس کے قرض کا ضامن بنتا ہے ، تو میں پھر اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتا ہوں ، اس صورت میں میری نماز اسے فائدہ دے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن امیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4212
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : أُتِيَ بِجِنَازَةٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : هُوَ عَلَيَّ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک جنازہ لایا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے ساتھی کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو ایک صاحب نے عرض کی : ( وہ قرض ) میرے ذمہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ پڑھائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ عمری ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4213
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَاتَ مَيِّتٌ ، فَمَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَوْهُ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَقَالَ : " عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ; دِينَارَانِ ، قَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَقَارِبِهِ : هُوَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " هُوَ عَلَيْكَ ، وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقِيَهُ بَعْدُ فَقَالَ : " مَا صَنَعْتَ ؟ " قَالَ : مَا فَرَغْتُ ، قَالَ : " بَرِّدْ عَلَى صَاحِبِكَ " ، ثُمَّ عَجِّلْ قَضَاءَهُ ، ثُمَّ لَقِيَهُ فَقَالَ : قَدْ قَضَيْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " الْآنَ حِينَ بَرَّدْتَ عَلَى صَاحِبِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا انتقال ہو گیا لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے اور آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے ساتھی کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! دو دینار ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو مرحوم کے رشتے داروں میں سے ایک شخص نے عرض کی : وہ میرے ذمہ ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا وہ تمہارے ذمہ ہو گئے اور یہ اس سے لاتعلق ہو گیا اس شخص نے کہا: جی ہاں ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ پڑھا دی پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات اس فرد سے ہوئی تو آپ نے دریافت کیا : تم نے کیا کیا ؟ اس نے عرض کی : میں فارغ نہیں ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے ساتھی کو ٹھنڈک فراہم کرو اور اس کی ادائیگی جلدی کر دو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کی ملاقات ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے وہ ادائیگی کر دی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اب تم نے اپنے ساتھی کو ٹھنڈک فراہم کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ دَيْنًا عَلَيْهِ لَيْسَ لَهُ وَفَاءٌ ، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ وَقَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ : أَنَا أَقْضِي عَنْهُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عُتْبَةَ الْكِنْدِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس نے اپنے ذمہ دو دینار قرض چھوڑا ، جس کی ادائیگی کی کوئی صورت نہیں تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر آپ کی طرف آئے اور عرض کی : میں اس کی طرف سے ادائیگی کر دوں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعتبہ کندی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4215
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7508)»
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ : دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا وُضِعَ السَّرِيرُ تَقَدَّمَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ : " عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ; دِينَارَانِ ، قَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : أَنَا بِدَيْنِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی نماز جنازہ کے لئے بلایا گیا جب چار پائی رکھ دی گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے آگے بڑھے تو آپ نے پیچھے مڑ کر دریافت کیا : کیا تمہارے ساتھی کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! دو دینار ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4216
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (185 ، 184/24)»