حدیث نمبر: 4209
وَعَنْ عِيسَى بْنِ صَدَقَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْيَشْكُرِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عِيسَى عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا حَدِيثًا يَنْفَعُنَا اللَّهُ بِهِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَمُوتَ وَلَا دَيْنَ عَلَيْهِ فَلْيَفْعَلْ ; فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَالَ : " لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ حَتَّى تَضْمَنُوا دَيْنَهُ ، فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ تَنْفَعُهُ " ، فَلَمْ يَضْمَنُوا دَيْنَهُ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " إِنَّهُ مُرْتَهَنٌ فِي قَبْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَعِيسَى وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

عیسیٰ بن صدقہ بن عباد یشکری بیان کرتے ہیں : میں ابوعیسی کے ہمراہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجیئے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں نفع عطا کرے تو میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ اس حالت میں میرے کہ اس کے ذمہ کوئی قرض نہ ہو ، تو اسے ایسا کرنا چاہیے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے پاس ایک شخص کا جنازہ لایا گیا جس کے ذمہ قرض تھا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : میں اس کی نماز جنازہ اس وقت تک نہیں پڑھاؤں گا جب تک تم اس کے قرض کا ذمہ نہیں لے لیتے پھر میرا نماز جنازہ ادا کرنا اسے فائدہ دے گا لوگوں نے اس کے قرض کو اپنے ذمہ نہیں لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ بھی ادا نہیں کی آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اپنی قبر میں رہن کے طور پر ( پابند ) رہے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ عیسیٰ نامی راوی کو ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر لوگوں نے انہیں ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4209
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (4244)»