حدیث نمبر: 4212
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُتِيَ بِرَجُلٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا يَنْفَعُكُمْ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى رَجُلٍ رُوحُهُ مُرْتَهَنٌّ فِي قَبْرِهِ ، لَا تَصْعَدُ رُوحُهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَلَوْ ضَمِنَ رَجُلٌ دَيْنَهُ قُمْتُ فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِ ، فَإِنَّ صَلَاتِي تَنْفَعُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أُمَيَّةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک شخص ( کی میت ) لائی گئی تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے ساتھی کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں اس کا کیا فائدہ ہو گا کہ میں ایک ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھاؤں کہ جس کی روح اس کی قبر میں رہن کے طور پر رکھی ہوئی ہو اس کی روح آسمان کی طرف بلند نہیں ہو گی ، اگر کوئی شخص اس کے قرض کا ضامن بنتا ہے ، تو میں پھر اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتا ہوں ، اس صورت میں میری نماز اسے فائدہ دے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن امیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4212
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف