مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى مَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ . باب: ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا کرنا ، جس کے ذمہ قرض ہو
حدیث نمبر: 4213
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : أُتِيَ بِجِنَازَةٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : هُوَ عَلَيَّ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک جنازہ لایا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے ساتھی کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو ایک صاحب نے عرض کی : ( وہ قرض ) میرے ذمہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ پڑھائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ عمری ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔