کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنا
حدیث نمبر: 4195
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ ادا کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4195
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4196
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ ادا کی تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خدیج بن معاویہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4196
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4197
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيُّ ، فَتُحِبُّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَضَرَبَ بِجَنَاحِهِ الْأَرْضَ ، فَلَمْ تَبْقَ شَجَرَةٌ وَلَا أَكَمَةٌ إِلَّا تَصَعْصَعَتْ ، [ قَالَ ] : فَرَفَعَ سَرِيرَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ ، وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، فِي كُلِّ صَفٍّ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلِكٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جِبْرِيلُ ، بِمَا نَالَ هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ مِنَ اللَّهِ ؟ قَالَ : بِحُبِّهِ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) ، وَقِرَاءَتِهِ إِيَّاهَا ذَاهِبًا وَجَائِيًا ، وَقَائِمًا وَقَاعِدًا ، وَعَلَى كُلِّ حَالٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُعْرَفُ ، وَحَدِيثُهُ مُنْكَرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے انہوں نے بتایا : معاویہ بن معاویہ لیثی کا انتقال ہو گیا ہے کیا آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنا پسند کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو انہوں نے اپنا پر زمین پر مارا تو راستے میں موجود ہر درخت اور ہر ٹیلہ ہٹ گیا راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے مرحوم کی چارپائی کو اٹھایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے ، اور آپ نے تکبیر کہی آپ کے پیچھے دو صفیں فرشتوں کی تھیں ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جبرائیل اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ مقام کس وجہ سے ملا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس کے سورت اخلاص سے محبت کرنے کی وجہ سے اور اس کے جاتے ہوئے آتے ہوئے کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے ہر حال میں اس ( سورت اخلاص ) کو تلاوت کرنے کی وجہ سے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی محمد بن ابراہیم بن العلاء ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محبوب بن ہلال ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث منکر ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4197
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (428/19)»
حدیث نمبر: 4198
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلُ ، وَهُوَ بِتَبُوكَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، اشْهَدْ جِنَازَةَ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيِّ . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَزَلَ جِبْرِيلُ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، فَوَضَعَ جَنَاحَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى الْجِبَالِ فَتَوَاضَعَتْ ، وَوَضَعَ جَنَاحَهُ الْأَيْسَرَ عَلَى الْأَرَضِينَ فَتَوَاضَعْنَ ، حَتَّى نَظَرَ إِلَى مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجِبْرِيلُ وَالْمَلَائِكَةُ ، فَلَمَّا فَرَغُوا قَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، بِمَا بَلَغَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيُّ هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ ؟ " . قَالَ : بِقِرَاءَةِ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) قَائِمًا وَقَاعِدًا ، وَرَاكِبًا وَمَاشِيًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نُوحُ بْنُ عُمَرَ ; قَالَ ابْنُ حِبَّانَ : يُقَالُ إِنَّهُ سَرَقَ هَذَا الْحَدِيثَ ، قُلْتُ : لَيْسَ هَذَا بِضَعْفٍ فِي الْحَدِيثِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَيْسَ فِيهِ عِلَّةٌ غَيْرَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تبوک میں موجود تھے انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ معاویہ بن معاویہ مزنی کے جنازے میں شریک ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے سیدنا جبرائیل علیہ السلام ستر ہزار فرشتوں کے ہمراہ نکلے تھے انہوں نے اپنا دایاں پاؤں مارا تو وہ جھک گئے انہوں نے اپنا بایاں پاؤں زمین پر مارا تو وہ جھک گئی یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اور مدینہ کو دیکھ سکتے تھے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کی نماز جنازہ ادا کی سیدنا جبرائیل اور فرشتوں نے بھی ادا کی جب یہ لوگ اس سے فارغ ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل ! معاویہ بن معاویہ مزنی کو یہ مقام کس وجہ سے نصیب ہوا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : سورت اخلاص کھڑے ہو کر بیٹھ کر سوار ہو کر پیدل چلتے ہوئے ( ہر حال میں پڑھنے کی وجہ سے یہ مقام ملا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نوح بن عمر ہے ۔ ابن حبان کہتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے اس نے یہ حدیث چوری کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ چیز حدیث میں کمزوری کا باعث نہیں بن سکتی اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت میں اس کے علاوہ اور کوئی علت نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4198
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4199
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ غَازِيًا بِتَبُوكَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، هَلْ لَكَ فِي جِنَازَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيِّ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ " ، فَقَالَ جِبْرِيلُ بِيَدِهِ هَكَذَا ، فَفَرَّجَ لَهُ عَنِ الْجَبَلِ وَالْآكَامِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي وَمَعَهُ جِبْرِيلُ ، وَمَعَ جِبْرِيلَ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، فَصَلَّى عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجِبْرِيلَ : " بِمَ بَلَغَ مُعَاوِيَةُ هَذَا ؟ " ، قَالَ : بِكَثْرَةِ قِرَاءَةِ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) ، كَانَ يَقْرَؤُهَا قَائِمًا وَقَاعِدًا وَرَاقِدًا ، فَبِهَذَا بَلَغَ مَا بَلَغَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں شرکت کے لئے گئے ہوئے تھے سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : کیا آپ معاویہ بن معاویہ مزنی کے جنازے میں دلچسپی رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا ، تو سب پہاڑ اور ٹیلے ہٹ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے ، اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ بن معاویہ کی نماز جنازہ ادا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا : معاویہ اس مقام تک کس وجہ سے پہنچا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : سورت اخلاص کی بکثرت تلاوت کی وجہ سے وہ کھڑے ہو کر بیٹھ کر لیٹ کر اس کو پڑھتا رہتا تھا ، تو اس وجہ سے اس مقام تک پہنچا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن ابوسہل ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4199
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (429/19)»
حدیث نمبر: 4200
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ ادا کی تھی آپ نے اس پر چار تکبیریں کہی تھیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4200
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4201
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ حِينَ نُعِيَ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُصَلِّي عَلَى عَبْدٍ حَبَشِيٍّ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ ) الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نجاشی کے انتقال کی خبر ملی تو آپ نے نجاشی کی نماز جنازہ ادا کی عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ایک حبشی شخص کی نماز جنازہ ادا کرنے لگے ہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4201
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4202
وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ خَمْسًا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا ذِكْرَ النَّجَاشِيِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَكَثِيرٌ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
کثیر بن عبداللہ نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہی تھیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے نجاشی کا ذکر نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ کثیر نامی راوی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4202
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4203
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَاةُ النَّجَاشِيِّ قَالَ : " اخْرُجُوا فَصَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ لَمْ تَرَوْهُ قَطُّ " . فَخَرَجْنَا ، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَفَّنَا خَلْفَهُ ، فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ الْمُنَافِقُونَ : انْظُرُوا إِلَى هَذَا خَرَجَ فَصَلَّى عَلَى عِلْجٍ نَصْرَانِيٍّ لَمْ يَرَهُ قَطُّ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : ( وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نجاشی کی وفات کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ نکلو اور اپنے اس بھائی کی نماز جنازہ ادا کرو جسے تم نے کبھی نہیں دیکھا تو ہم نکلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہوئے ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنا لیں ۔ آپ نے نماز ادا کی ہم نے بھی نماز ادا کی جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو منافقین نے کہا: تم لوگ ان کی طرف دیکھو کہ یہ نکلے اور انہوں نے ایک عیسائی طاقتور شخص ( یعنی حکمران ) کی نماز جنازہ ادا کی ، جسے انہوں نے کبھی دیکھا بھی نہیں ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” بے شک اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4203
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 4204
وَعَنْ جَرِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَصَلُّوا عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے ، تم لوگ اس کی نماز جنازہ ادا کرو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4204
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2346)»
حدیث نمبر: 4205
وَعَنِ ابْنِ خَارِجَةَ قَالَ : لَمَّا بَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَاةُ النَّجَاشِيِّ قَالَ : " إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ تُوُفِّيَ " ، فَخَرَجْنَا فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ، فَصَلَّيْنَا وَمَا نَرَى شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حُمَرَانَ بْنُ أَعْيَنَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن خارجہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نجاشی کے انتقال کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے ( راوی بیان کرتے ہیں ) ہم لوگ نکلے ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنا لیں اور ہم نے نماز جنازہ ادا کی حالانکہ ہم کچھ نہیں دیکھ رہے تھے ( یعنی میت ہمارے سامنے نہیں تھی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمران بن اعین ہے ، جسے ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے یحیی بن معین نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4205
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5142)»
حدیث نمبر: 4206
وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ قَالَ : لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَّاشِيَّ قَدْ مَاتَ ، قُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ مَاتَ فِي كُفْرِهِ ؟ فَقَالَ : " أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى قَوْلِ اللَّهِ : وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ " ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نجاشی کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : تمہارے بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے تم لوگ اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس کی نماز جنازہ کیسے ادا کر سکتے ہیں جبکہ اس کا انتقال کفر کے عالم میں ہوا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا ہے : ” بے شک اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اس پر اور جو ان کی طرف نازل کیا گیا اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوداؤد حرانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4206
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (316/22)»
حدیث نمبر: 4207
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَلَغَهُ مَوْتُ النَّجَاشِيِّ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَّاشِيَّ قَدْ مَاتَ ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَلْيُصَلِّ عَلَيْهِ " . فَتَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَحْوَ الْحَبَشَةِ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا التَّكْبِيرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نجاشی کے انتقال کی اطلاع ملی تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تمہارا بھائی نجاشی انتقال کر گیا ہے ، جو شخص اس کی نماز جنازہ ادا کرنا چاہے وہ نماز جنازہ ادا کرے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کی طرف رخ کیا ، اور اس پر چار مرتبہ تکبیر کہی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے تکبیر کہنے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4207
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3048)»