حدیث نمبر: 4214
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَاتَ مَيِّتٌ ، فَمَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَوْهُ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَقَالَ : " عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ; دِينَارَانِ ، قَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَقَارِبِهِ : هُوَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " هُوَ عَلَيْكَ ، وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقِيَهُ بَعْدُ فَقَالَ : " مَا صَنَعْتَ ؟ " قَالَ : مَا فَرَغْتُ ، قَالَ : " بَرِّدْ عَلَى صَاحِبِكَ " ، ثُمَّ عَجِّلْ قَضَاءَهُ ، ثُمَّ لَقِيَهُ فَقَالَ : قَدْ قَضَيْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " الْآنَ حِينَ بَرَّدْتَ عَلَى صَاحِبِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا انتقال ہو گیا لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے اور آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے ساتھی کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! دو دینار ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو مرحوم کے رشتے داروں میں سے ایک شخص نے عرض کی : وہ میرے ذمہ ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا وہ تمہارے ذمہ ہو گئے اور یہ اس سے لاتعلق ہو گیا اس شخص نے کہا: جی ہاں ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ پڑھا دی پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات اس فرد سے ہوئی تو آپ نے دریافت کیا : تم نے کیا کیا ؟ اس نے عرض کی : میں فارغ نہیں ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے ساتھی کو ٹھنڈک فراہم کرو اور اس کی ادائیگی جلدی کر دو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کی ملاقات ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے وہ ادائیگی کر دی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اب تم نے اپنے ساتھی کو ٹھنڈک فراہم کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف