مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى مَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ . باب: ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا کرنا ، جس کے ذمہ قرض ہو
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ دَيْنًا عَلَيْهِ لَيْسَ لَهُ وَفَاءٌ ، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ وَقَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ : أَنَا أَقْضِي عَنْهُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عُتْبَةَ الْكِنْدِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس نے اپنے ذمہ دو دینار قرض چھوڑا ، جس کی ادائیگی کی کوئی صورت نہیں تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر آپ کی طرف آئے اور عرض کی : میں اس کی طرف سے ادائیگی کر دوں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعتبہ کندی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔