مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى مَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ . باب: ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا کرنا ، جس کے ذمہ قرض ہو
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ : دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا وُضِعَ السَّرِيرُ تَقَدَّمَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ : " عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ; دِينَارَانِ ، قَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : أَنَا بِدَيْنِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی نماز جنازہ کے لئے بلایا گیا جب چار پائی رکھ دی گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے آگے بڑھے تو آپ نے پیچھے مڑ کر دریافت کیا : کیا تمہارے ساتھی کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! دو دینار ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔