حدیث نمبر: 4210
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا قَالَ : " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ نَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى مَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَقَالَ : إِنَّ صَاحِبَ الدَّيْنِ مُرْتَهَنَّ فِي قَبْرِهِ حَتَّى يُقْضَى دَيْنُهُ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں آپ نے دریافت کیا : کیا اس کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے کہ میں کسی ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا کروں جس کے ذمہ قرض ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مقروض شخص اپنی قبر میں رہن رکھا رہتا ہے ، جب تک اس کی طرف سے اس کے قرض کو ادا نہیں کر دیا جاتا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4210
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3477)»